Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

با وجود اطاعت نہیں کی ۔ ان کا سردار مالک بن عوف ۲۰ ہزار آدمیوں کی جمعیت لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا تاکہ آپ کے اوپر حملہ کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ بھی ۱۲ ہزار آدمیوں کو لے کر اس کی طرف بڑھے حنین کی وادی میں مقابلہ ہوا ۔ ابتدا مسلمانوں کو شکست ہوئی ۔ مگر مسلمان دوبارہ جم گئے ۔ اور انھوں نے ہوازن کو فیصلہ کن شکست دی ۔ ان کے کے ۶ ہزار آدمی گرفتار کر لیے گئے ۔ اس شکست کے بعد ہوازن کا سردار مالک بن عوف اور اس کے ساتھی بھاگ کر طائف میں قلعہ بند ہو گئے تھے ۔ اس لیے آپ نے اموال غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر رکھا اور پھر وہاں سے روانہ ہو کر طائف پہنچے ۔ مگر طائف والوں نے زبردست سرکشی دکھائی ۔ طائف عرب کا واحد قلعہ بند شہر تھا۔ ان کے تیرانداز قلعہ کی فصیل پر بیٹھ گئے اور مسلمانوں کو اپنے تیروں کے نشانہ پر لینا شروع کیا۔ اس میں بارہ مسلمان شہید ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید نے پکار کر کہا کہ نیچے اترو اور پر دست بدست مقابلہ کرو ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو قلعہ سے اترنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس کئی سال کی ضرورت کا غلہ موجود ہے ۔ جب یہ ختم ہو جائے گا تو ہم تلواریں لے کر اتریں گے۔ طائف کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شریک تھے ۔ یہی نہیں بلکہ عملاً بھی آپ نے اس میں حصہ لیا ۔ سیرت اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے طفیل بن عمر الدوسی کی قیادت میں ایک وفد شام کے علاقہ میں بھیجا تھا جہاں اس وقت کے اعلی جنگی ہتھیار تیار ہوتے تھے ۔ وہ لوگ وہاں سے ایک دبابہ اور ایک منجنیق لے آئے ۔ ان لوگوں کی واپسی میں کسی قدر تاخیر ہوئی۔ چنانچہ وہ لوگ طائف کے محاصرہ کے چار روز بعد طائف پہنچے (زرقانی ، جلد ۳) اس سلسلہ میں ابن ہشام کی ایک روایت ابن کثیر نے ان الفاظ میں نقل کی ہے : حَدَّثَنِی من اثق به ان النبی مجھ سے بیان کیا جس پر میں اعتماد کرتا ہوں کہ نبی صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى صلی اللہ علیہ وسلم پہلے شخص ہیں جس نے اسلام میں فِي الإِسْلَامِ بِالْمَنْجَنِيقِ رمی بہ منجنیق سے گولہ پھینکا۔ آپ نے منجنیق سے طائف اَهْلَ الطَّائِف (جلد ۳ ، صفحه ۴۵۸) والوں پر گولہ پھینکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page