Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر طائف کے لوگ اتنے سرکش تھے کہ پھر بھی وہ قبضہ میں نہیں آئے۔ انھوں نے فصیل کے اوپر سے لوہے کی گرم سلاخیں پھینکنا شروع کیا جس کی وجہ سے متعدد مسلمان ہلاک ہو گئے۔ آپ اٹھارہ دن تک طائف کا محاصرہ کیے رہے مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ طائف والوں کے لیے بد دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس کے بعد آپ نے ہاتھ اٹھایا اور فرمایا : اے اللہ، قبیلہ ثقیف کو ہدایت دے اور ان | اَللّٰهُمَّ اِهْدِ ثَقِيْفاً وَاُتِ بِهِمْ کو میرے پاس لے آ۔ کسی شخص کے حق میں دعا کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ اس کے حق میں خیر خواہی کا آخری عمل ہے۔ جب آدمی کسی کا اتنا زیادہ خیر خواہ ہو جائے کہ اس کی ہدایت اور نجات کے لیے خدا سے دعا کرنے لگے اسی وقت اس کو وہ اعلیٰ اخلاقی تدبیریں سوجھتی ہیں جن کے اندر تسخیری صلاحیت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنے فریق کے لیے بد دعا کریں، جن کا سینہ ان کی نفرت اور بد خواہی سے بھرا ہوا ہو وہ لوگ نفسیاتی پیچیدگی سے آزاد نہیں ہوتے، اس لیے وہ نہ اعلیٰ اخلاقی تدبیریں سوچ سکتے اور نہ اس پر عمل کر سکتے۔ آخر کار صحابہ نے رائے دی کہ بظاہر موجودہ حالت میں طائف کی تسخیر مشکل ہے اس لیے واپس چلنا چاہیے ۔ مگر یہ مشکل صرف تلوار کی راہ میں کہتی۔ اخلاق کی راہ میں کوئی مشکل حائل نہ تھی۔ چنانچہ آپ نے تلوار میان میں کر لی اور اخلاق کی طاقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ طائف سے واپس ہو کر جعرانہ پہونچے جہاں قبیلہ ہوازن کے لوگ ۶ ہزار کی تعداد میں قیدی بنے ہوئے تھے۔ آپ نے نہایت حکیمانہ انداز میں تمام کے تمام ۶ ہزار قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ اور اسی کے ساتھ ان کو اپنے وطن واپس جانے کے لیے سواری اور زادِ راہ بھی دیا اور مزید انعامات سے نوازا۔ یہ سلوک قدیم زمانہ کے آداب جنگ کے سراسر خلاف تھا۔ کیوں کہ وہ لوگ قدیم رواج کے مطابق یہ سمجھے ہوتے تھے کہ وہ سب کے سب غلام بنائے جائیں گے یا قتل کیے جائیں گے۔ ناممکن تھا کہ اتنا بڑا اخلاقی سلوک انھیں متاثر نہ کرے۔ چنانچہ اس نے متاثر کیا اور وہ سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page