Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سب اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے ۔ ہو ازن کی جنگ میں زبردست مالِ غنیمت ہاتھ آیا تھا ۔ روایات کے مطابق اس کی مقدار ۲۴ ہزار اونٹ ، ۴۰ ہزار بکریاں ، ۴ ہزار اوقیہ چاندی اور دوسرے سامان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ کیا کہ ان کثیر اموال میں سے نہ تو خود کچھ لیا اور نہ انھیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔ بلکہ ان کو نہایت فیاضانہ طور پر مکہ کے غیر مسلموں اور مشرک سرداروں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ یہ اخلاقی سلوک بھی قدیم رواج کے اعتبار سے انتہائی غیر معمولی تھا۔ اس لیے ناممکن تھا کہ اس کا اثر نہ ہو۔ چنانچہ اس کا زبردست اثر ہوا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کے ذریعہ ان کے دلوں کو جیت لیا۔ ہاری ہوئی قوم کے ساتھ بُرا سلوک کیا جائے تو وہ دوبارہ تخریبی سرگرمیوں کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہاری ہوئی قوم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ فاتح قوم کی وفادار بن کر اس کی طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اخلاقی تدبیر کی اس کا اثر براہِ راست طور پر طائف کے لوگوں پر پڑا۔ اس کے ذریعہ آپ نے طائف کے لوگوں کو ان کے حلیف (ہوازن) اور دوسرے قبائل سے کاٹ دیا تھا۔ طائف کے لوگ اب عرب میں اکیلے رہ گئے ۔ یہ خبر جب طائف کے قلعہ بند شہر میں پہنچی تو انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی سرکشی عرب میں بے زمین ہو کر رہ گئی ہے۔ چنانچہ رمضان ۹ھ میں ان کے وفد نے مدینہ حاضر ہو کر اطاعت قبول کر لی ۔ ابن ہشام نے اس موقع پر محمد بن اسحاق کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ثُمَّ اَقَامَتْ ثَقِیْفٌ بَعْدَ قَتْلِ عُرْوَةَ عروہ بن مسعود کے قتل کے بعد قبیلہ ثقیف کے اَشْھُرًا۔ ثُمَّ اِنَّھُمْ اِنْتَمَرُوَا بَیْنَھُمْ لوگ چند مہینے ٹھہرے۔ پھر انھوں نے آپس میں وَرَأَوْ اَنَّہ لَا طَاقَةَ لَھُمْ بِحَرْبِ مشورہ کیا اور محسوس کیا کہ اپنے گرد عرب کے مَنْ حَوْلَھُمْ مِنَ الْعَرَبِ وَقَدْ بَايَعُوَا تمام قبائل سے جنگ کی ان کے اندر طاقت نہیں وَاَسْلَمُوا ہے جب کہ انھوں نے رسول اللہ پر بیعت کرلی (سیرة ابن ہشام جلد ۴ ، صفحه ۱۹۵) ہے اور اسلام قبول کر لیا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page