Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مثال میں مادی طاقت کے استعمال کے باوجود قلعے کے دروازے بند ہو گئے تھے۔ مگر اخلاق نے یہ کرشمہ دکھایا کہ قلعے کے بند دروازے دوبارہ وسعت کے ساتھ کھل گئے۔ اخلاقی طاقت کے لیے کوئی دیوار روک نہیں بن سکتی ۔ اخلاق کا اثر جہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں کسی مادی طاقت کا اثر نہیں پہنچ سکتا ۔ مادی طاقت اگر پتھر کی مانند کام کرتی ہے تو اخلاقی طاقت ہوا کی مانند ۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ہوا کے نفوذ کے لیے اس دنیا میں کوئی روک روک نہیں ۔ تنزیبی سرگرمیاں ختم مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت دی۔ آپ کی دعوت سراسر پر امن تھی۔ مگر وہاں کے لوگ آپ کے سخت دشمن ہوگئے۔ انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں دیں ۔ حتی کہ آپ کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تب بھی وہ خاموش نہ ہوئے اور آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی ۔ مکہ کے لوگ اپنی انھیں مخالفانہ سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ مکہ فتح ہوگیا۔ اس وقت آپ نے کیا کیا ۔ آپ نے سب کو بلا شرط معاف کر دیا۔ سیرت کی روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے۔ آپ نے لوگوں کے سامنے ایک مفصل تقریر کی ۔ اس سلسلہ میں روایت کے الفاظ یہ ہیں : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے يا معشر قريش ما ترون انی فاعل قریش کے لوگو، تمہارا کیا خیال ہے، میں تمہارے بكم قالوا خيرا، اخ كريم وابن اخ ساتھ کیا کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ آپ كريم - قال فانی اقول لكم كما قال شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کی اولاد ہیں۔ يوسف لا اخوته لاتثريب عليكم اليوم آپ نے کہا، میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف اذهبوا فانتم الطلقاء (زاد المعاد) نے اپنے بھائیوں سے کہا۔ آج تم پر کوئی الزام نہیں ۔ جاؤ تم سب آزاد ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اخلاقی معاملہ لوگوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page