Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ اس نے نہایت گہرائی کے ساتھ لوگوں کو متاثر کیا۔ لوگ کثرت سے اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھی بننے لگے ۔ یہاں تک کہ سارے لوگ اسلام کے حلقہ میں داخل ہو گیے۔ اگر آپ فتح کے بعد اپنے دشمنوں پر سختی کا سلسلہ شروع کر دیتے تو وہ لوگ اسلام کے خلاف دوبارہ تخریبی سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے۔ وہ سازشوں کا جال بچھاتے۔ وہ خفیہ تحریکیں چلا کر اسلام کی راہ میں ایسی مشکلات پیدا کرتے کہ اہل اسلام کی ساری طاقت ان سے مدافعت میں خرچ ہونے لگتی اور اصل تعمیری کام ٹھپ ہو کر رہ جاتا۔ کھونے کے بعد پالیا سمرقند وسط ایشیا کا نہایت قدیم شہر ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں وہ عربوں کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد وہ مختلف انقلابات کا شکار رہا۔ اب ۱۹۲۴ء سے وہ اشتراکی روس کے قبضہ میں ہے ۔ پہلی بار حضرت امیر معاویہؓ کے زمانہ میں خراسان کے مسلم گورنر نے اس پر چڑھائی کی تھی یہاں کے رئیسوں نے سات لاکھ درہم سالانہ کے عوض ان سے امان حاصل کر لی ۔ اُس وقت یہاں بدھ مت کو ماننے والوں کی آبادی تھی ۔ اس کے بعد مسلم فوج واپس چلی گئی اور مقامی رئیس نے زر امان کے عوض اپنی ریاست سمرقند میں باقی رکھی ۔ ولید بن عبد الملک اموی نے ۸۶ھ میں خلافت کا عہدہ سنبھالا۔ اس کے زمانہ میں قتیبہ بن مسلم الباہلی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ سمرقند اور دریائے جیحون کے اُس پار کے دوسرے علاقے بغاو ت پر آمادہ ہیں۔ چنانچہ قتیبہ کو یہ کام سپرد ہوا کہ وہ ان علاقوں پر چڑھائی کر کے انھیں مسخر کریں اور ان سے زر امان کے معاہدے ختم کر کے انھیں براہ راست خلافت کی ماتحتی میں لے آئیں ۔ سمر قند کے سرداروں کو قتیبہ کی فوج کشی کی خبر ہوئی تو انھوں نے بھی اپنی فوجیں جمع کیں۔ دونوں میں زبردست مقابلہ ہوا۔ آخر کار قتیبہ کو فتح ہوئی۔ سمر قند کی بقیہ فوج شہر پناہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس کے دروازے بند کر لیے قتیبہ نے منجنیق کے ذریعہ شہر کے کنارے بنی ہوئی دیواروں پر پتھر کے گولے مارنے شروع کیے ۔ اس کے نتیجہ میں دیوار میں اتنا بڑا شگاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page