Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گیا کہ قتیبہ کی فوج اس راستہ سے اندر داخل ہو جائے ۔ سمرقند کے سردار اس صورت حال سے گھبرا گئے ۔ انھوں نے خیال کیا کہ اگر قتیبہ کی فوج اندر آگئی تو زیادہ بڑا نقصان کرے گی ۔ چنانچہ انھوں نے صلح کی بات چیت شروع کی ۔ یہ بات چیت کئی دن تک جاری رہی ۔ آخر کار صلح کی دفعات طے ہوگئیں ۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سمرقند کے لوگ بارہ لاکھ درہم سالانہ باقاعدگی کے ساتھ ادا کریں گے ۔ شہر میں ایک مسجد بنائی جائے گی ۔ قتیبہ مع اپنے فوجیوں کے اس مسجد میں نماز ادا کریں گے اور پھر شہر چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔ حسب معاہدہ قتیبہ ابن مسلم چار ہزار آدمیوں کی فوج لے کر شہر میں داخل ہوئے ۔ وہاں انھوں نے طے شدہ کارروائی کی ۔ مگر اس کے بعد انھوں نے شہر نہیں چھوڑا ۔ جب شہر کے سرداروں نے پوچھا تو ان سے کہہ دیا کہ شہر سے باہر جانے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ میرے ساتھ میری فوج بھی شہر میں رہے گی ۔ یہ واقعہ سمرقند والوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھا تا ہم اس وقت وہ خاموش ہو کر رہ گئے ۔ یہاں تک کہ کئی برس بعد انھیں معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۹۹ ھ) اسلام کے خلیفہ مقرر ہوتے ہیں ۔ اور یہ کہ وہ بے حد متقی اور عادل خلیفہ ہیں ۔ اب سمرقند والوں کو دوبارہ ہمت ہوئی ۔ انھوں نے اپنا نمائندہ وفد دمشق بھیجا ۔ وفد نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی کہ قتیبہ بن مسلم طے شدہ معاہدہ کے خلاف شہر کے اندر داخل ہو گئے اور وہاں اپنے فوجیوں کو آباد کر دیا ۔ اس وقت اس واقعہ پر تقریباً سات سال گزر چکے تھے اور قتیبہ بن مسلم کا بھی انتقال ہو چکا تھا ۔ ان کی جگہ پر دوسرا شخص سمرقند کا حاکم تھا ۔ بظاہر سیاسی مفاد کا تقاضا تھا کہ اس دفتر کو اب نہ کھولا جائے ۔ موجودہ زمانہ کے قوم پرست لیڈر اس وقت ہوتے تو وہ کہتے کہ اگر ہم نے اس بند دفتر کو کھولا تو پھر تمام مفتوحہ ملکوں سے وفود آنا شروع ہو جائیں گے اور ہم کو پپا ہوتے ہوتے مدینہ لوٹ جانا ہوگا ۔ مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز خدا سے ڈرنے والے انسان تھے ۔ ان کی نظر میں مفاد کے مقابلہ میں اصول کی زیادہ اہمیت تھی ۔ سیاسی تقاضے کے مقابلہ میں اخلاقی تقاضا زیادہ قابل لحاظ تھا ۔ چنانچہ انھوں نے فوراً وفد کی درخواست کو قبول کر لیا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خراسان کے گورنر کو لکھا کہ ایک قاضی مقرر کیا جائے جو وفد کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page