Urdu book · دین کامل

اخلاق

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

شکایت کی جانچ کرے ۔ چنانچہ گورنر نے قاضی جمیع بن حامض کو اس کی تحقیق کے لیے مقرر کیا۔ انھوں نے سمرقند جاکر پورے معاملہ کی جانچ کی ۔ انھوں نے پایا کہ شکایت درست ہے ۔ انھوں نے فوراً حکم دیدیا کہ مسلم فوج شہر کو مکمل طور پر خالی کر دے اور شہر سے باہر چلی جائے ۔ اس فیصلہ کے تحت بظاہر مسلمان سمرقند کو کھورہے ہوتے ۔ مگر اس قسم کا اخلاقی عمل محض ایک سادہ عمل نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اندر زبردست طاقت رکھتا ہے ۔ مسلمانوں نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ وہ اس قدر پابند لوگ ہیں کہ محض ایک اصول کی خاطر وہ سات سال پرانا دفتر کھول سکتے ہیں اور صرف ایک اخلاقی تقاضے کے تحت فتح کے باوجود واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمرقند کے لوگوں نے جب اس کو دیکھا تو ان کے دل پگھل گیے ۔ انھوں نے سوچا کہ اس سے زیادہ لائق اور انصاف پسند لوگ کہاں ملیں گے۔ چنانچہ انھوں نے اعلان کر دیا کہ آپ لوگ شہر سے باہر نہ جائیں بلکہ یہیں قیام کریں ۔ آپ کا قیام ہم خوشی کے ساتھ منظور ہے ۔ (فتوح البلدان للبلاذری) حضرت عمر بن عبدالعزیز کا فیصلہ بظاہر ملک کو کھو رہا ہوتا۔ مگر اخلاقی طاقت نے ملک کو دوبارہ زیادہ قوت کے ساتھ آپ کی طرف لوٹا دیا۔ یک طرفہ اخلاق اخلاق میں بلاشبہ فتح کی طاقت ہے ۔ مگر فتح کی طاقت صرف اُس اخلاق میں ہے جو یک طرفہ ہو۔ یعنی دوسرے آدمی نے آپ کے ساتھ برائی کی ہو پھر بھی آپ اس کے ساتھ بھلائی کریں ۔ آپ بھلائی کرنے کے لیے مجبور نہ ہوں اس کے باوجود آپ اپنے فریق کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کریں ۔ دو طرفہ اخلاق میں معاملہ برابر ہو جاتا ہے اس لیے اس میں غلبہ کی شان پیدا نہیں ہوتی۔ یک طرفہ اخلاق میں معاملہ برابر نہیں ہوتا اس لیے اس کے مقابلے میں آدمی دبنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے ۔ جب بھی آپ یک طرفہ طور پر بہتر سلوک کرنے کی پوزیشن میں ہوں تو سمجھ لیجیے کہ آپ تلوار اور بندوق کے بغیر جنگ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ آپ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر فریق ثانی پر غالب آسکتے ہیں ۔ اس دنیا میں اس سے بڑا نادان کوئی شخص نہیں جو یک طرفہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page