اخلاق
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
حسن سلوک کا موقع پائے اور پھر بھی اسے استعمال کیے بغیر ضائع کر دے ۔ اخلاقی فتح میں ایک خاص صفت ہے جو کسی دوسری فتح میں موجود نہیں ۔ فتح کی دوسری قسموں میں فتح اس قیمت پر حاصل ہوتی ہے کہ ایک مسئلہ ختم ہو کر دوسرا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ مثلاً جنگ کے ذریعہ فتح میں طرفین کی بربادی ، فاتح میں بے جا فخر اور مفتوح میں بے جانفرت۔ وغیرہ ۔ مگر اخلاقی فتح مسئلہ کو مکمل طور پر حل کر دیتی ہے ، بغیر اس کے کہ اس نے کوئی نیا مسئلہ پیدا کیا ہو ۔ اخلاقی ایک ایسی طاقت ہے جو دشمن کو اندر سے زیر کر دیتی ہے ۔ جو دشمنی کو حقیقی دوستی میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ وہ سرکشوں کی سرکشی کو ختم کرتی ہے اور خون بہائے بغیر قلعہ کے دروازے کھول دیتی ہے ۔ اخلاقی تدبیر میں آدمی بظاہر ہردیتا ہے مگر وہ اس کو دوبارہ زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل کر لیتا ہے ۔ اخلاقی طاقت حریف کو اس طرح مغلوب کرتی ہے کہ وہ اس سے یہ حوصلہ چھین لے کہ وہ غالب کے خلاف اپنی تخریبی سرگرمیاں جاری رکھے ۔ یڈ دہلی یکم اکتوبر ۱۹۸۵

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader