Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص اللہ کے آگے جھک جائے۔ ایک شخص اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔ مگر اس قسم کے انفرادی اور روحانی عمل کے لیے بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کو اجتماعی طور پر ایک امام کی قیادت میں ادا کیا جائے۔ زکوٰۃ بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک انفرادی فعل ہے۔ ایک شخص اپنی کمائی کو پاک کرنے کے لیے اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں نکالتا ہے۔ اسی کا نام زکوٰۃ ہے۔ مگر زکوٰۃ کے لیے یہ حکم ہے کہ ہر آدمی الگ الگ اپنی زکوٰۃ نہ خرچ کرے۔ سب کی زکوٰۃ ایک مرکزی بیت المال میں جمع ہو اور وہاں سے اس کو اجتماعی طور پر خرچ کیا جائے۔ اسی طرح روزہ ایک خالص انفرادی اور روحانی نوعیت کا عمل ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ ہر ایک سے یہ کہہ دیا جائے کہ تم اپنے طور پر سال میں ۳۰ دن کے روزے رکھ لیا کرو۔ بلکہ اس کے لیے سال کا ایک خاص مہینہ مقرر ہوا۔ اور تمام لوگوں کو حکم دیا گیا کہ اسی خاص مہینہ میں ایک ساتھ روزہ رکھیں اور ایک ساتھ افطار کریں۔ حج خدا کی پکار پر ایک بندہ کا خدا کی طرف دوڑ پڑنا ہے۔ اس اعتبار سے حج بھی ایک انفرادی عبادت ہے۔ مگر اس انفرادی عبادت کو اتنے بڑے پیمانے پر اجتماعی بنایا گیا کہ حکم ہوا کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک وقت میں مقامات حج پر جمع ہو کر ایک ساتھ حج کے مراسم ادا کریں۔ حج میں اجتماعیت کا پہلو بے حد نمایاں ہے۔ برطانیہ میں اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا گیا ہے: About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration (Vol. IV, p.844). تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں۔ اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں اکٹھا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔ اختلاف کا اثر دین پر امام بخاری نے حضرت عبادہ بن صامت کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے کہ ہم کو شب قدر کی خبر دیں۔ پھر مسلمانوں میں سے دو آدمی جھگڑا کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نکلا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دیدوں تو فلاں اور فلاں جھگڑ پڑے پس اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page