Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

فتلاحی فلان و فلان مرفعت ، تفسیر ابن کثیر ، جلد ثانی ، صفحه ۲۶۲ ) اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں : باہمی جھگڑا فائدہ سے محروم کر دیتا ہے اور نفع بخش علم جاتا رہتا ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے کہ بندہ گناہ کے باعث رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ( ان المماراة تقطع الفائدة والعلم النافع كما جاء في الحديث ان العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبد ) حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا بہت گہرا تعلق دوسرے اسلامی اعمال اور عبادات سے ہے۔ مثال کے طور پر مسجد میں اگر امامت اور تولیت کا جھگڑا اٹھڑ جائے تو مسجد کے اندر عبادت اور خدا کی طرف رجوع کی فضا ختم ہو جائے گی۔ حتی کہ یہ نوبت بھی آسکتی ہے کہ ایک مسجد میں دو جماعت ہونے لگے یاسرے سے مسجد ہی بند ہو جائے ۔ دینی مدرسہ میں اگر ذمہ داروں کے درمیان لڑائی ہو جائے تو مدرسہ میں تعلیم کا ماحول باقی نہیں رہے گا۔ گروہ بندی اور سیاست بازی میں ساری طاقتیں صرف ہونے لگیں گی۔ مسلم ملکوں کے درمیان اگر لڑائی چھڑ جائے تو اس کا براہ راست اثر حج کی عبادت پر پڑے گا۔ کتنے حاجی حجاز کے سفر سے روک دیئے جائیں گے۔ جو لوگ جائیں گے ان کی اتنی تلاشی ہوگی اور ان کے ساتھ اتنی سختی کی جائے گی کہ وہ حج کے لیے جانے سے گھبرانے لگیں۔ ایسی فضا بنے گی کہ سکون کے ساتھ حج کے تمام مراسم ادا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ مسلم ممالک اگر باہم اختلاف کرکے الگ الگ دھڑوں میں تقسیم ہو جائیں تو دنیا بھر کے مسلمان بھی اسی کے ساتھ تقسیم ہو جائیں گے۔ کچھ لوگ ایک مسلم ملک کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے اور کچھ لوگ دوسرے مسلم ملک کے ساتھ اور پھر ہر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دے گا۔ ایک طرف کے افراد دوسری طرف کے افراد کے لوگوں کو بدنام کریں گے۔ ایک طرف کے لوگ دوسری طرف کے لوگوں کو ہر قسم کا نقصان پہنچانا اپنے لیے جائز کریں گے ۔ پوری امت میں دینی ماحول ختم ہو کر اکھڑ پچھاڑ کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔ لوگوں کو مسلمان بنانے کے بجائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page