Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کو کا فر بنانے کا عمل شروع ہو جائے گا ۔ ہوا اکھڑ جانا قرآن میں آپس کے اختلاف کا ایک نقصان یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد دوسری اقوام کی نظر میں تمہارا وزن گھٹ جائے گا ۔ دوسری قومیں تمہیں ہرے اوپر حجر ہی ہو جائیں گی ۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں : واطيعوا الله ورسوله ولا تنازعا اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی ۔ فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ۔ ورنہ تمہارے اندر ان الله مع الصابرين کمزوری آجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی (الانفال ۴۶) اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تقریباً اسی مضمون کی آیت سورۂ آل عمران (۱۵۲) میں آئی ہے جہاں غزوہ احد کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : حتى اذا فشلتم وتنازعتم في الامر وعصيتم من بعد ما اراكم ما تحبون ۔ (یہاں تک کہ جب تم کمزور پڑ گئے۔ اور تم نے حکم میں اختلاف کیا اور نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تم کو وہ چیز دکھا دی تھی جس کو تم چاہتے تھے)۔ نزاع یا تنازع کے لفظی معنی وہی ہیں جس کو انگریزی میں Controversy کہتے ہیں ۔ یعنی باہم جھگڑنا ۔ کسی معاملہ میں اختلاف برپا کرنا ۔ کوئی بات کہی جائے اور اس میں ایک شخص ایک پہلو نکال کر کہے اور رائے دے اور دوسرا شخص دوسرا پہلو نکال کر دوسری رائے دے تو اسی کو تنازع کہتے ہیں۔ یہی صورت غزوہ احد میں پیش آئی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ اُحد پہاڑ کے ایک درہ پر بٹھا دیا تا کہ دشمن پشت کی طرف سے حملہ نہ کرسکے ۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن جبیر کو اس دستہ کا امیر مقرر کیا اور فرمایا کہ جنگ میں ہم کو فتح ہو یا شکست کسی حال میں تم یہاں سے نہ ہٹنا ۔ ہر حال میں یہیں قائم رہنا ۔ بعد کو جب مسلمانوں کو فتح ہونے لگی تو ان میں اختلاف پیدا ہو گیا ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ لوگوں نے اصرار کیا کہ ہم کو یہیں جے رہنا چاہیے ۔ یہ اختلاف رائے اتنا بڑھا کہ دس آدمی کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page