اتحاد
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
کا طوفان اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ــــ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دیتا ہے ۔ ایک مثال لیجئے ۔ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اتنے میں انہیں سانپ کی شکل کی ایک چیز نظر آتی ہے۔ اگر وہ بالکل بے حرکت ہو اور بظاہر اس سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوتا ہو تو اس کو دیکھ کر لوگ طرح طرح کی طبع آزمائی کریں گے۔ کوئی شخص کہے گا کہ یہ ایک مرا ہوا سانپ ہے، کوئی مار کر اس کو یہاں ڈال گیا ہے۔ دوسرا آدمی کہے گا کہ نہیں یہ پلاسٹک کا بنا ہوا سانپ ہے۔ اور اس کے بعد وہ پلاسٹک صنعت کے بارے میں اپنی معلومات بکھیرنا شروع کرے گا۔ کوئی اور شخص بولے گا کہ نہیں یہ ایک اسٹف کیا ہوا سانپ ہے یعنی اصل سانپ کی کھال میں بھس وغیرہ بھر دیا گیا ہے۔ یہ طرح طرح کی رائے اس وقت ہوں گی جب کہ سانپ بالکل بے حس و حرکت پڑا ہوا ہو۔ لیکن اگر صورت حال اس کے برعکس ہو یعنی وہ سانپ اپنا خوفناک پھن نکال کر کھڑا ہو جائے تو اس وقت اچانک رایوں کی کثرت رایوں کی وحدت میں تبدیل ہو جائے گی ۔ سب لوگ بیک زبان کہہ اٹھیں گے کہ سانپ، سانپ۔ اسی حقیقت کو میں نے ان لفظوں میں کہا ہے کہ ــــ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ : راس الحكمة مخافة الله (اللہ کا ڈر دانائی کا سرا ہے) یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ طاقتور نفسیات خوف کی نفسیات ہوتی ہے۔ انسان کی اصلاح جتنی زیادہ خوف کے ذریعہ ہوتی ہے کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں ہوتی۔ پھر یہ خوف جب خدا وند ذوالجلال کا خوف ہو تو اس کی تاثیر بے پناہ حد تک زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر ایک انا ہے۔ ہر آدمی اپنی بڑائی چاہتا ہے ۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی بات دوسروں کی بات سے اوپر رہے۔ انسان کی یہی نفسیات ہر قسم کے اختلاف کا اصل سبب ہے۔ جہاں ہر آدمی بڑا بننا چاہتا ہو وہاں جتنے آدمی ہوں گے اتنی ہی رائیں ہوں گی ۔ ایسی حالت میں لوگوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کیوں کر پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ پر آدمی کا ایمان اتنا گہرا ہو کہ وہ تقویٰ بن جائے ۔ یعنی اللہ پر ایمان آدمی کو اللہ سے ڈرنے والا بنا دے تو ایسی حالت میں قدرتی طور پر ایسا ہوگا کہ آدمی کی انا اس سے چھن جائے گی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader