اتحاد
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر گھمنڈ کے بجائے تواضع کی نفسیات پیدا ہو جائے گی۔ وہ دوسروں کے احتساب سے زیادہ خود اپنا احتساب کرنے لگے گا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کو اپنا وجود ہمیشہ چھوٹا نظر آئے گا۔ کیوں کہ خدا کی نسبت سے کوئی بھی انسان بڑا نہیں ۔ خدا کی نسبت سے سارے انسان چھوٹے ہیں ۔ سچا مومن اسی قسم کے احساسات میں جیتا ہے اور انہیں احساسات کے نقد انجام کا نام اتحاد ہے۔ قرآن وحدیث میں بار بار بتایا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا وہ تمہارے سب کام بنا دے گا اس کا مطلب ایک اعتبار سے یہ ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈروگے تو تمہارے اندر وہ خصوصیات پیدا ہوں گی جو دنیا کی زندگی میں آدمی کو طاقت ور بناتی ہیں۔ اس سے تمہارے اندر وہ کردار ابھرے گا جو دنیا میں مضبوط زندگی کی تعمیر کے لیے ضروری ہے ۔ اس سے تمہاری قوم وہ قوم بن جائے گی جس سے لوگ ہیبت زدہ ہوں اور جس کے خلاف اقدام کی جرأت نہ کر سکیں ۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کو جو غیر معمولی فتوحات حاصل ہوئی ہیں ان میں سے ایک نمایاں فتح وہ ہے جو صلاح الدین ایوبی (۱۱۹۳ - ۱۱۳۸) کے زمانہ میں حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں سارا یورپ فلسطین کو مسلمانوں سے واپس لینے پر آمادہ ہو گیا اور عملاً لے لیا ۔ صلاح الدین وہ شخص ہے جس نے یروشلم پر مسیحی یورپ کے ۸۸ سالہ قبضہ کو ختم کیا اور مسیحی اقوام کو شکست دے کر ۱۱۸۷ء میں اس کو دوبارہ مسلم سلطنت میں شامل کیا ۔ صلاح الدین کی اس کامیابی کا راز اتحاد تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیکا (۱۹۸۴) کا مقالہ نگار لکھتا ہے : Saladin succeeded in turning the military balance of power in his favour — more by uniting and disciplining a great number of unruly forces than by employing new or improved military techniques (16/177). صلاح الدین فوجی طاقت کے توازن کو اپنے موافق بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ کامیابی ان کو زیادہ تر منتشر قوتوں کو جوڑنے اور منظم کرنے سے ہوئی نہ کہ نئی یا ترقی یافتہ فوجی تدبیروں کو اختیار کرنے سے۔ یہ تاریخ کا سبق ہے اور تاریخ سے بڑی کون سی چیز ہے جو اس معاملے میں آدمی کو سبق دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader