Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

حصہ دوم اتحاد ایک اجتماعی واقعہ ہے جو انفرادی قربانی کی زمین پر قائم ہوتا ہے۔ جس گروہ کے افراد اپنے آپ کو پیچھے کرنے پر راضی کر لیں وہی گروہ اس دنیا میں وہ گروہ بنتا ہے جو متحدہ طاقت سے آگے بڑھ سکے۔ جماعت کا آگے بڑھنا افراد کے پیچھے ہٹنے کی قیمت ہے۔ ذاتی شکایتوں کو پیج جانا سرکشی کا موقع ہوتے ہوئے تواضع اختیار کرنا، جزئی اختلاف کو کلی اختلاف نہ بنانا، قومی تقاضے کو انفرادی تقاضے کے اوپر رکھنا، اجتماعی مفاد کی خاطر ذاتی رائے کو دفن کر دینا یہی وہ خصوصیات ہیں جو کسی گروہ میں اتحاد پیدا کرتی ہیں۔ ذاتی شکایت سے اوپر اٹھ جانا حضرت خالد بن ولید اسلامی تاریخ کے بہت بڑے سپہ سالار گزرے ہیں۔ ابتدائی زمانہ کی اسلامی فتوحات میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ حضرت عمر فاروق بعض اعتبار سے ان سے مطمئن نہ تھے۔ چنانچہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت خالد کو سرداری کے مقام سے معزول کر دیا اور ان کو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کا ماتحت سپاہی بنا دیا۔ اس وقت حضرت خالد بن ولید ایران میں تھے اور فتوحات پر فتوحات کیے چلے جا رہے تھے۔ حضرت عمر فاروق کا یہ حکم عین انہیں فتوحات کے زمانہ میں پہنچا جب کہ حضرت خالد نے ایک ہیرو کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ عام رواج کے مطابق اس واقعہ کے بعد فوجی بغاو ت ہو جانی چاہیے تھی۔ مگر حضرت خالد نے کسی قسم کی کوئی سباجی کارروائی نہ کی۔ انہوں نے نہایت پرسکون طور پر سرداری کا عہدہ حضرت ابوعبیدہ کے حوالہ کر دیا اور اپنے آپ کو ان کا ماتحت بنا لیا۔ حضرت خالد بن ولید چوں کہ اپنے کارناموں کی وجہ سے فوج میں بہت زیادہ مقبول تھے۔ اس خبر کے پھیلنے کے بعد فوجیوں میں ناراضگی پیدا ہو گئی۔ بہت سے فوجی ان کے خیمہ میں جمع ہوئے اور کہا کہ آپ خلیفہ کے حکم کو نہ مانیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ مگر حضرت خالد نے نہایت بے نیازی کے ساتھ سب کو واپس لوٹا دیا۔ اس وقت انہوں نے جو جملہ کہا وہ تاریخ نے ان الفاظ میں محفوظ رکھا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page