اتحاد
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
اِنی لا اقاتل فی سبیل عمر ولكن میں عمر کے راستہ میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے اقاتل فی سبیل رب عمر حضرت خالد اگر خلیفہ کے اس حکم پر کُبّر جاتے تو فورا آپس کی لڑائی چھپڑ جاتی اور اسلام کی تاریخ جہاں پہنچی تھی وہیں رُک جاتی۔ مگر جب حضرت خالد نے اس حکم کو مان لیا تو انہوں نے اسلامی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ۔ اس نازک موقع پر یہ جملہ بلا شبہ ایک عظیم الشان جملہ ہے ۔ ایسے موقع پر ایسا جملہ بولنا ہمالیہ پہاڑ کو اٹھانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ یہگر یہی اتحاد کی اصل قیمت ہے۔ یہ گویا انسان کی طرف سے پیش آنے والی شکایت کو اللہ کے خانہ میں ڈالنا ہے ۔ ایسا جملہ وہی شخص کہہ سکتا ہے جس نے اللہ کو اتنی بڑی چیز کی حیثیت سے پایا ہو کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز اس کے لیے چھوٹی ہو جائے۔ بڑی چیز کو پانے والے ہی چھوٹی چیز کی قربانی برداشت کرتے ہیں اس لیے اتحاد کی قربانی بھی وہی لوگ دے پاتے ہیں جو اپنے لیے اتنی بڑی چیز پاچکے ہوں کہ اس کے بعد ہر چیز ان کو چھوٹی طمع معلوم ہونے لگے ۔ صحابہ کرام کا ایمان ان کے لیے یہی حیثیت رکھتا تھا ۔ ان کو ایمان سب سے بڑی چیز کے طور پر ملا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے نقصان کو برداشت کر سکتے تھے ۔ وہ بڑی سے بڑی شکایت کو بھلا دیتے تھے۔ بڑی سے بڑی قربانی بھی انہیں ہلکی معلوم ہوتی تھی۔ ان کے ایمان نے ہر چیز کو ان کی نظر میں چھوٹا کر رکھا تھا۔ پھر انہیں کسی چیز کے کھونے کا غم ہوتا تو کیوں ہوتا ۔ صحابہ کرام کا بے مثال اتحاد ان کے ایمان کی نقد قیمت تھی ۔ آئندہ بھی اگر کسی گردہ میں حقیقی اتحاد پیدا ہوگا تو اسی وقت پیدا ہوگا جب کہ اس کے اندر صحابہ والا ایمان پیدا ہو جائے۔ اتحاد ایک طاقت اتحاد کتنی بڑی طاقت ہے اور اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ کی ایک مثال لیجئے۔ حضرت علی جب خلیفہ مقرر ہوئے اس وقت حضرت امیر معاویہ ملک شام کے حاکم تھے۔ بعض غلط فہمیوں کی بنا پر دونوں کے درمیان شکایات پیدا ہوگئیں۔ یہ شکایتیں بڑھتی رہیں۔ یہاں تک کہ جنگ کی نوبت آگئی ۔ مسلمانوں کی جماعت دو بڑے مسلم رہنماؤں کے ساتھ بٹ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader