اتحاد
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
آپس میں لڑنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمانوں نے رومی (بازطینی) سلطنت کا بڑا حصہ فتح کر لیا تھا۔ رومی شہنشاہیت کے مشرقی حصہ کو بازطینی سلطنت (Byzantine Empire) کہا جاتا تھا۔ بازطینی سلطنت ۳۳۰ عیسوی میں قائم ہوئی۔ اس کا دارالسلطنت قسطنطنیہ (استنبول) تھا۔ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں اس کو بہت پھیلاؤ حاصل ہوا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے مصر و شام سے لے کر شمالی افریقہ تک اس کا بیشتر حصہ فتح کر ڈالا۔ اس کے بعد بازطینی سلطنت قسطنطنیہ اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں محصور ہو کر رہ گئی۔ اس ساحلی حصہ میں وہ دیر تک باقی رہی یہاں تک کہ ۱۴۵۳ء میں عثمانی ترکوں نے اس کو فتح کرکے آخری طور پر اس کا خاتمہ کر دیا۔ رومی سلطنت کا وارث قسطنطین جو اس وقت سمندر کے کنارے قسطنطنیہ کے قلعہ میں موجود تھا اس کو جب معلوم ہوا کہ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑرہے ہیں اور خلیفہ وقت (حضرت علی) کی تمام توجہ داخلی محاذ پر لگی ہوئی ہے تو رومی بادشاہ کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہو گیا اس نے سوچا کہ یہ بہترین موقع ہے جب کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے اس نے قسطنطنیہ میں بڑے پیمانہ پر فوجی تیاری شروع کر دی تاکہ شام و فلسطین کے علاقہ پر حملہ کرے ۔ حضرت معاویہ کو کسی طرح یہ معلوم ہو گیا کہ رومی بادشاہ مسلم دنیا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ انہوں نے معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا اور فوراً ایک خط تیار کر کے خصوصی قاصد کے ذریعہ قسطنطنیہ روانہ کیا۔ اس خط کا مضمون مختصر طور پر یہ تھا : " اے رومی احمق ، اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر تو مسلم دنیا پر حملہ کرے تو تجھ کو جاننا چاہیے کہ جب تو ایسا کرے گا تو اس وقت تیرے مقابلہ کے لیے علی کا جو لشکر آگے بڑھے گا ، معاویہ اس لشکر کا ادنی سپاہی ہوگا ۔" یعنی جب تم مسلم دنیا پر حملہ کروگے تو ہم اپنے اختلاف کو ختم کر دیں گے اور متحد ہو کر تمہارا مقابلہ کریں گے۔ اس خط کا قسطنطنیہ پہنچنا تھا کہ رومی بادشاہ کی ہمت پست ہو گئی۔ اس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader