Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

فوجی تیاریوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا اور مسلم دنیا پر حملہ کا ارادہ ترک کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اتحاد تو در کنار اتحاد کی خبر بھی اپنے اندر عظیم الشان طاقت رکھتی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں جو چیز پیش آئی تھی وہ صرف خبر اتحاد تھی نہ کہ اتحاد۔ اس کے باوجود رومی بادشاہ کے قدم ہل گئے۔ اس نے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ارادہ ترک کر دیا۔ اختلاف کے باوجود متحد رہنا اتحاد ہمیشہ ایسے لوگوں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے جو اتنے عالی حوصلہ ہوں کہ ایک طرفہ طور پر اپنے اختلاف کو ختم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد نام ہے اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا۔ اختلافات کے بغیر اتحاد نہ انسانی دنیا میں کبھی قائم ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی قائم ہو سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو غزوات پیش آئے ان میں سے ایک وہ ہے جس کو غزوہ ذات السلاسل کہا جاتا ہے۔ جمادی الثانی 8ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی قضاعہ مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ قبیلہ شام کی سرحد پر آباد تھا۔ آپ نے اس کی حوصلہ شکنی کے لیے حضرت عمرو بن العاص کی سرداری میں ایک دستہ روانہ کیا۔ اس میں تین سو آدمی تھے۔ یہ لوگ جب سُلسُل نامی جگہ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ چنانچہ عمرو بن العاص یہاں ٹھیر گئے اور رافع بن مکیث کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ مدد کے طور پر کچھ اور آدمی بھیجے جائیں ۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو روانہ کیا۔ ان کے ساتھ دو سو مہاجرین تھے ۔ ان میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ یہ لوگ مقام سُلسُل پر پہنچے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کی امارت کا نظم کیا ہو ۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ جو مہاجرین تھے انہوں نے حضرت عمرو بن العاص سے کہا کہ آپ اپنے آدمیوں کے امیر رہیں اور ابو عبیدہ ہمارے امیر رہیں گے ۔ اس کے جواب میں حضرت عمرو بن العاص نے کہا کہ میں دونوں دستوں کا امیر ہوں ۔ کیونکہ دوسرا دستہ میری ہی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page