Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف بڑھا تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا : اے عمرو، جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو جو آخری نصیحت کی وہ یہ تھی کہ جب تم اپنے آدمی کے پاس پہنچو تو مل کر کام کرنا، ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرنا۔ خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمہاری بات مانوں گا۔ ( تعلم يا عمرو أن اخر ما عهد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان قال : اذا قدمت على صاحبك فتاو عا ولا تختلفا۔ وانك والله ان عصيتني لا طيعتك ) یہ کہہ کر حضرت ابو عبیدہ نے اپنے دستہ کی امارت حضرت عمرو بن العاص کے حوالہ کردی۔ اب مسلمانوں کی تعداد پانچ سو ہوگئی۔ حضرت ابو عبیدہ اگر اپنی رائے کی قربانی نہ دیتے تو مسلمان دو ٹکڑے ہو کر آپس میں لڑتے۔ جو کام ان کا دشمن کرنا چاہتا تھا اس کو یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں انجام دے لیتے ۔ مگر جب حضرت ابو عبیدہ نے اپنی ذاتی رائے کو دفن کر دیا تو وہ پانچ سو کی متحد اور مضبوط جماعت بن گئے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ متحدہ گروہ جب آگے بڑھا تو دشمن ان کی خبر سن کر دہشت زدہ ہو گئے اور خود ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحابہ کے اندر بے شمار اختلافات تھے ۔ مگر یہی عالی حوصلگی تھی جس نے تمام اختلافات کو دبا دیا ۔ وہ اختلاف کے باوجود متحد رہے ۔ انہوں نے یک طرفہ قربانی کے ذریعہ اسلامی اتحاد کو برقرار رکھا ۔ اسلامی اتحاد کا مقصد اتحاد بلا شبہ ایک طاقت ہے۔ مگر یہ طاقت اس لیے نہیں ہے کہ مسلمان متحد ہو کر کسی کے خلاف جارحیت کریں۔ وہ صرف اس لیے ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد کو دیکھ کر دوسرے لوگ اپنی جارحیت سے باز رہیں ۔ اسلامی اتحاد کا مقصد دوسروں کو جارحیت سے روکنا ہے نہ کہ خود جارحیت کرنا۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر اجتماعی قوت فراہم کریں۔ ( واعد و لہم ما استطعتم من قوة ) پھر اسی آیت میں آگے یہ بھی بتا دیا گیا کہ قوت فراہم کرنے کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ یہ ہے : ترهبون به عدو الله وعدوكم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page