Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے ذریعہ تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو ڈراؤگے، گویا کہ اسلام میں قوت سے مراد قوت مرہبہ ہے نہ کہ قوت جارحہ۔ اسلام ہر قسم کی قوت فراہم کرنے کی تاکید کرتا ہے مگر اس لیے نہیں کہ دوسروں کے خلاف جارحانہ اقدام کیا جائے بلکہ صرف اس لیے کہ دوسرے لوگ خوفزدہ رہیں اور مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اقدام سے رک جائیں اسلام کا جو اصل مقصد ہے اس کا طاقت آزمائی یا ٹکراؤ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں اسلام کا مقصد دعوت ہے۔ اسلام لوگوں کے دلوں کی گرہیں کھولنا چاہتا ہے۔ تاکہ لوگ دین حق کو سمجھیں اور اپنے آپ کو اللہ کی پسند والے راستے پر چلائیں ۔ یہ مقصد ایک پرامن مقصد ہے ۔ یہ مقصد تفہیم اور تبلیغ کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے نہ کہ لڑائی جھڑائی کے ذریعہ ۔ تاہم اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان بقدر استطاعت اپنے گرد وہ چیز بھی فراہم کریں جو لوگوں کی نظر میں طاقت کا درجہ رکھتی ہے ۔ تاکہ شریر پسند لوگ اس کے رعب سے دبے رہیں اور اسلامی دعوت کا تعمیری کام کسی خارجی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ مظاہرہ طاقت نہ کہ استعمال طاقت حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: نُصِرتُ بالرعب علی مسيرة شهر (ایک مہینہ کی مسافت تک کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو عملی تدبیر اور طریقہ کار بتایا وہ یہ تھا کہ اپنے گرد ایسے حالات فراہم کرو کہ اس کا اثر دور دور تک پہونچے۔ نہ صرف قریبی دشمن بلکہ دور کے دشمن بھی مرعوبیت کی وجہ سے تمہارے خلاف اقدام کرنے سے باز رہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایک جاری نبوت ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ کی خصوصیات آپ کی امت تک بھی پہونچ رہی ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے نوازا ان کو اللہ نے آپ کی امت تک وسیع کر دیا۔ بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ حجاج بن یوسف عراق کا حاکم تھا۔ عراق کے ایک سرحدی علاقہ سے خبر ملی کہ ایک قبیلہ بغاوت پر آمادہ ہے ۔ حجاج کے مشیروں نے کہا کہ قبیلہ کی سرکوبی کے لیے ہمیں فوراً ایک فوجی دستہ (دکتہ) بھیجنا چاہیے ۔ حجاج نے جواب دیا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page