اتحاد
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا جب کہ آپ نے ساری رات نماز پڑھی۔ یہاں تک کہ جب فجر کا وقت آگیا تو آپ نے سلام پھیر کر اپنی نماز ختم کی۔ میں نے کہا ، اے خدا کے رسول آج کی رات آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی نماز پڑھتے ہوئے اس سے پہلے آپ کو نہ دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، وہ ڈر اور اشتیاق کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اپنے رب سے تین باتیں مانگیں۔ اس نے دو باتیں مجھ کو دے دیں اور ایک سے منع فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے یہ مانگا کہ وہ ہم کو اس طرح ہلاک نہ کرے جس طرح پچھلی امتیں ہلاک کی گئیں۔ یہ اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہمارے اوپر باہر کے دشمن کو (کامل طور پر) مسلط نہ کرے۔ یہ بھی اس نے مجھ کو دے دیا۔ پھر میں نے اپنے رب سے مانگا کہ وہ ہم کو گروہوں میں نہ بانٹے ۔ اس کی قبولیت سے اس نے انکار کر دیا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اگر دوسری غلطیاں کریں تو اس کا امکان ہے کہ اللہ کی رحمت کی وجہ سے وہ اس کے برے انجام سے بچ جائیں لیکن اگر وہ باہمی اختلاف کر کے آپس میں لڑنے لگیں تو اس کے برے انجام سے وہ کسی حال میں بچ نہیں سکتے۔ مسلمانوں کو دوسرے معاملات میں خدا کی عصمت حاصل ہے۔ مگر اختلاف کے معاملہ میں انھیں خدا کی عصمت حاصل نہیں۔ مسلمانوں کو سب سے زیادہ جس معاملہ میں چوکس رہنا ہے وہ آپس کا اختلاف اور آپس کا ٹکراؤ ہے۔ ہر اس چیز سے انھیں دور رہنا ہے جو باہمی اختلاف پیدا کرے۔ حتی کہ اگر کسی وقت ان کی عقل باہمی اختلاف والے کام کو اچھا بنا کر دکھائے تب بھی ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی عقل کو غلط سمجھیں اور باہمی اختلاف پیدا کرنے والی ہر بات سے کامل پرہیز کریں۔ مسلمان اگر ان چیزوں میں پڑیں جو آپس کا اختلاف پیدا کرنے والی ہیں تو دنیا میں بھی وہ اس کا سخت انجام بھگتیں گے اور اندیشہ ہے کہ آخرت میں بھی ان کو خدا کے غضب کا شکار ہونا پڑے۔ باہمی اختلاف ہر حال میں قابل ترک ہے خواہ کسی کے پاس اس کی بظاہر معقول وجہ کیوں نہ موجود ہو۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کا اصل مسئلہ صرف ایک ہے۔ اور وہ باہمی اختلاف ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ اللہ تعالی نے اس دین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader