Urdu book · دین کامل

اتحاد

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اس حد تک قائم کر دیا ہے اور اس کو اتنا مستحکم بنا دیا ہے کہ اب اس کو کوئی بیرونی طاقت کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ اس کو جب بھی نقصان پہنچے گا اپنوں کے ذریعہ پہنچے گا۔ اور اپنوں کا یہ عمل یہی ہے جس کو اختلاف کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں باہمی لڑائی کو مطلق طور پر ناجائز قرار دے دیا گیا ہے ۔ کثرت سے احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔ اور حضرت عثمان کی شہادت کی صورت میں یہ مثال بھی قائم کر دی گئی ہے کہ مسلمان اگر تم کو قتل کرنے آجائیں تب بھی تم مسلمانوں سے جنگ نہ کرو ۔ دین کا خلاصہ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : ان الله يرضى لكم ثلاثا۔ یرضی اللہ تم سے تین باتوں پر راضی ہوگا ۔ وہ تم سے اس لكم أن تعبدوه ولا تشركوا به پر راضی ہوگا کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شیئاً ۔ کسی چیز کو شریک نہ کرو ۔ اور یہ کہ تم سب کے سب وان تعتصموا بحبل الله جميعا اللہ کی رسی میں بندھ جاؤ اور متفرق نہ ہو ۔ اور یہ ولا تفرقوا ۔ وان تناصحوا من کہ اللہ جس کو تمہارے معاملہ کا ذمہ دار بنادے ولاه الله امرکم ۔ اس کی خیر خواہی کرو ۔ یہ حدیث پورے دین کا خلاصہ ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین باتیں بتائی گئی ہیں جن میں سے دو کا تعلق اتحاد سے ہے ، ایک براہ راست اور دوسری بالواسطہ ۔ اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کا پہلا مطالبہ ہم سے یہ ہے کہ ہم اللہ کے عبادت گزار بندے بنیں ، اس کے سرکش اور غافل بندے نہ بنیں ۔ ہم اسی کے آگے جھکنے والے ہوں اور اسی کی طرف دوڑنے والے ہوں ۔ دوسری چیز یہ کہ سارے مسلمان ایک اللہ کی رسی میں بندھ جائیں۔ یعنی دین کی مرکزی دعوت پر متحد ہو جائیں ۔ وہ اس میں ذیلی اور ضمنی اختلافات نکال کر منتشر نہ ہوں ۔ " خدا کی رسی"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page