Urdu book · دین کامل

دین کامل

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

دین کامل قرآن کی سورہ نمبر ۵ ( المائدہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخر میں اتری ۔ اس کے شروع میں کچھ قانونی احکام ہیں ، اس کے بعد ارشاد ہوا ہے : اليَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ - اليَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الإسْلَامَ دِيناً (المائده (۳) اس آیت میں دین کامل سے کیا مراد ہے آج انکار کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ، پس تم ان سے نہ ڈرو، تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کردی۔ اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ اس سلسلہ میں مفسروں میں دو قسم کے اقوال ہیں ۔ اس آیت میں دین کامل سے کیا مراد ہے ۔ اس سلسلہ میں تفسیروں میں دو قسم کے اقوال ہیں ۔ (۱) دین مستحکم ، (۲) دین مکمل ۔ علامہ ابو البرکات النسفی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے ۔ وہ اپنی تفسیر (دیه م، ص ١) میں لکھتے ہیں : ( اليوم يئس الذين كفروا من دينكم ) يئسوا منه ان يبطلوه او يئسوا من دينكم ان يغلبوه لانّ الله تعالی وفی بوعده من اظهاره على الدين كلّه ( فلا تخشوه م ) بعد اظهار الدين وزوال الخوف من الكفار و انقلابهم مغلوبين بعد ما كانوا غالبين ( واخشون ) ای اخلصوا لى الخشية ( اليوم اكملت لكم دينكم ) بان كفيتم خوف عدوكم واظهرتكم عليهم، كما يقول الملوك : اليوم كمل لنا الملك ای كفينا یے ہے ، اپنے میں کو تمہارے آج منکرین تمہارے دین سے مایوس ہوگئے ) یعنی وہ اس بات سے مایوس ہوگئے کہ وہ دین اسلام کو باطل کر سکیں۔ یا اس سے مایوس ہوگئے کہ وہ اس پر غالب آجائیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام دینوں پر بالا کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا (پس ان سے نہ ڈرو ) بعد اس کے کہ دین بالا ہو گیا اور منکرین کی طرف سے ڈر کا خاتمہ ہوگیا۔ اور وہ مغلوب کردیئے گیے ، جب کہ اس سے پہلے وہ غالب تھے ۔ (اور مجھ سے ڈرو ) یعنی ڈر اور اندیشہ کو صرف میرے لیے خاص کر دو۔ (آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page