دین کامل
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
من كُنَّا تخافه ۔ تفسیر النسفی ، الجزء الاول ، صفحہ ۲۷۲ 25 مكرر تفاضه مره : ابوالفعائز لیے کامل کر دیا اس طرح کہ تمہارے دشمن کے خوف کے مقابلہ میں میں تمہارسے لیے کافی ہو گیا۔ اور تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا۔ جیسا کہ بادشاہ کہتے ہیں کہ آج ہمارا اقتدار کامل ہو گیا، یعنی جس سے اندیشہ تھا اس کے مقابلہ میں ہم کافی ہو گیے۔ یہ قول ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں : وقيل اظهرت دينكم على الاديان كلها وأمننكم من الاعداء ( التفسیر المظهری ، المجلد الثالث ، صفحه ۲۵ ) ایک اور کہا گیا ہے کہ میں نے تمہارے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دیا اور تم کو دشمنوں سے امن دے دیا۔ ایک حدیث اکمال یا تکمیل کے معنی عربی زبان میں صرف گنتی پورا کرنے کے نہیں ہیں۔ اس سے مراد کسی بھی حقیقت کی تکمیل ہو سکتی ہے جو زیر بحث کلام میں مقصود ہو۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ : مَنْ احَبَّ لِلّهِ وَابْغَضَ لِلّهِ وَاَعْطَى لِلّهِ وَمَنَعَ لِلّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الاِيْمَانَ ( رواه ابوداؤد ) لالميت میں آیا ہے ؟ جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا۔ اس حدیث میں ایمان کا کامل ہونا گنتی اور فہرست کے اعتبار سے نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں (الایمان بضع وسبعون شعبة)، اب اگر کامل ہونے کا تعلق گنتی اور فہرست سے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستر سے زیادہ باتیں شمار کر کے فرمانا چاہئے تھا کہ جس شخص میں یہ تمام باتیں پائی جائیں اس کا ایمان کا مل ہو گیا۔ مگر مذکورہ روایت میں صرف چار باتوں کو ایمان کا مل کی پہچان بتایا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس حدیث میں " استکمال ایمان" سے مراد تکمیل حقیقت ہے نہ کہ تکمیل فہرست ۔ اسی طرح سورہ مائدہ ( آیت ۳ ) میں بھی " اکمال دین " سے حقیقت دین کی تکمیل مراد ہے نہ کہ فہرست دین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader