دین کامل
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تکمیل ۔ لغات عرب عربی کے مشہور لغت لسان العرب میں ”کمل“ کی تشریح کے تحت کہا گیا ہے : وقال اللہ تعالی : الیوم اکملت لكم دینکم اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آج میں نے تمہارے دین کو واتممت علیکم نعمتی (الآیۃ) ومعناه تمہارے لیے کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت واللہ اعلم ۔ الان اکملت لكم الدين بان پوری کر دی ۔ اس کا مطلب ، اور اللہ زیادہ بہتر جانتا کفيتكم خوف عدوکم واظهرتکم عليهم ہے ، یہ ہے کہ اب میں نے تمہارے دین کو تمہارے كما تقول الآن كمل لنا الملك وكم لنا لیے کامل کر دیا اس طرح کہ تمہارے دشمن کے لیے میں ما نريد بان كفينا من كنا نخافه تمہاری طرف سے کافی ہو گیا اور تم کو ان کے اوپر لسان العرب لابن منظور ، طبع بيروت غالب کر دیا ۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ اب ہمارا اقتدار کامل ہو گیا ۔ اور جو ہم چاہتے تھے وہ پورا ہو گیا کیوں کہ جن سے ہمیں خوف تھا ان کے لیے ہم کافی ہوگئے ۔ آیت میں ” تمہارا دین “ کا لفظ بتاتا ہے کہ یہاں از اول تا آخر تمام پیغمبروں کی نسبت سے مطلق تکمیل دین کا ذکر نہیں ہے ، بلکہ یہاں صرف اہل اسلام کی نسبت سے تکمیل دین کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا دین (قرآن) جو ابتداً غار حرا سے اترنا شروع ہوا تھا ، وہ ۲۳ سال تک اترتے اترتے اب میدان عرفات میں آخری طور پر مکمل ہو گیا ۔ اب یہ کتاب پوری ہوگئی ، اب اس میں کوئی مزید اضافہ ہونے والا نہیں۔ آیت میں جس کمال یا غلبہ کا ذکر ہے ، اس سے مراد محض سیاسی معنوں میں عرب میں ہونے والا غلبہ نہیں ہے بلکہ عالمی حالات میں پیش آنے والی وہ تبدیلی ہے جس نے ہمیشہ کے لیے اسلام کو محفوظ کر دیا ، اور اس کو فکری حیثیت سے ایک برتر دین بنا دیا۔ اس سے مراد محدود طور پر ملک عرب میں حکومت قائم ہونا نہیں ، بلکہ اس سے مراد عالمی حالات میں برپا ہونے والی وہ دور رس تبدیلیاں ہیں جو خدا کے دین کے حق میں استحکام کی ابدی ضمانت بن چکی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader