دین کامل
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاق کلام سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت میں دین کی تکمیل کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ فہرست احکام کے اعتبار سے دین مکمل ہو گیا۔ کیوں کہ آیت میں عملِ تکمیل کا جو فائدہ بتایا گیا ہے ، اس کا فہرست احکام سے کوئی تعلق نہیں ۔ آیت کے مطابق دین کی تکمیل کا فائدہ یہ ہے کہ اب " خشیت " کا تعلق انسانوں سے نہ رہا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ہو گیا ۔ جہاں تک فہرست احکام کا تعلق ہے ، وہ نازل ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے ، باعتبار فہرست اس میں کوئی کمی ہونے والی نہیں۔ اب کمی کا امکان جس چیز میں ہے ، وہ خشیت الہی میں ہے نہ کہ فہرست احکام میں ۔ آیت کہتی ہے کہ دین کا مل ہونے کے بعد اب اہل کفر کی طرف سے تمہارے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ خطرہ جو کچھ ہے وہ اس میں ہے کہ خدا کے معاملہ میں تم بے خوف ہو جاؤ اور دین کے تقاضے پورے کرنے میں کوتاہی کرو۔ آیت کا یہ سیاق بتاتا ہے کہ یہاں دین کامل سے مراد دین مستحکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی مدد سے اسلام کو دین مستحکم کی حیثیت دیدی ہے۔ اب اغیار اس کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے۔ البتہ اگر خود مسلمان ہی اپنی غفلت اور سرکشی سے اس کے استحکام کو توڑیں تو الگ بات ہے۔ اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِيْنَ کَفَرُوا۔۔۔۔۔۔ یہ اندازِ کلام بتاتا ہے کہ یہاں تکمیل با اعتبار اعتدار کفار مراد ہے۔ قدیم زمانہ میں دین کے لیے اہل کفر کی طرف سے تعدی کا خطرہ رہتا تھا، اب دین کے ساتھ وہ حالات جمع کر دیے گیے کہ اس قسم کا اندیشہ اس کے لیے باقی نہ رہا۔ ایک شخص کو فارسٹر (افسر جنگلات) کے عہدہ پر مقرر کیا جائے اور اس کو اسلحہ کے بغیر جنگل کے علاقہ میں بھیجا جائے تو ابتدائی حالت میں وہ جنگلی جانوروں کے حملہ کی زد میں رہے گا۔ مگر اس کے بعد جب اس کو ضروری اسلحہ دیدیا جائے تو گویا اس کا معاملہ مکمل ہوگیا ، اب وہ پوری طرح فارسٹری کی ڈیوٹی ادا کرنے کے قابل ہوگیا۔ اس مثال سے ” دین کامل “ کا مطلب پوری طرح واضح ہورہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا قافلہ پہلے اگر خشیت انسانی کے دور سے گزر رہا تھا تو اب وہ خشیتِ خداوندی کے دور میں داخل کر دیا گیا۔ پہلے مخالفینِ دین ، اہل دین کو نقصان پہونچانے میں کامیاب ہوجاتے تھے ۔ اب ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader