Urdu book · دین کامل

دین کامل

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے اس کا موقع باقی نہ رہا۔ اب اندیشہ کی بات صرف یہ ہے کہ اہل دین خود کوئی کوتاہی کریں اور اس کی وجہ سے خدا کی پکڑ میں مبتلا ہو جائیں ۔ پیغمبر اسلام کے ذریعہ جو انقلاب لایا گیا ہے اس کے بعد اب خدا کا دین ہمیشہ کے لیے قائم اور مستحکم ہو چکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی مدد سے اب ایسا کر دیا ہے کہ دعوت توحید کے ساتھ ایسے مزید معاون اسباب جمع کر دیے ہیں جس کے بعد یہ دعوت منکرین کی دسترس سے باہر جا چکی ہے ، اب وہ اس کے لیے کوئی حقیقی مسئلہ بننے کی طاقت کھو چکے ہیں۔ اسلام کے اس کی اصل صورت میں محفوظ ہونے کی بنا پر اس کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے خدا کا پسندیدہ دین ہے ۔ جو شخص اسلام پر کھڑا ہوگا وہ یقینی طور پر کامل حق پر کھڑا ہوگا ۔ اور جو شخص کامل حق پر کھڑا ہو ۔ اس کے لیے کامیابی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب محمدی دو مذہبی دوروں کے درمیان حد فاصل ہے ۔ اس انقلاب نے مذہب حق کے لیے اندیشہ کا دور ختم کر دیا۔ اس سے پہلے منکرین حق کی طرف سے ڈر لگا رہتا تھا۔ مگر اب اہل حق کو صرف خدا سے ڈرنا ہے ۔ انھیں اب منکرین حق سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ نئے دور میں اہل حق کو اپنا جو حصہ ادا کرنا ہے اس کو وہ کسی اندیشہ کا لحاظ کیے بغیر ادا کرتے رہیں ۔ وہ ہمیشہ صرف داعی حق بنے رہیں ۔ اس کے سوا کسی اور چیز کو وہ اپنے عمل کی بنیاد نہ بنائیں ۔ وہ مدعو سے یک طرفہ طور پر اعراض کریں وہ ہرگز ان سے ٹکراؤ کی فضا نہ قائم ہونے دیں ۔ وہ دوسری قوموں سے ہمیشہ مدعو کا معاملہ کریں نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ یہی سب اللہ سے ڈرنا ہے ۔ مسلمان اگر اس " ڈر" کے تقاضے پورا کرتے رہیں تو منکرین حق کی کوئی بھی سازش یا دشمنی انھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ ایک مثال ۱۸ ویں صدی میں پورے یورپ میں بادشاہی نظام قائم تھا ۔ اس وقت مختلف منکرین کی تحریروں کے زیر اثر جمہوریت کی تحریک اٹھی۔ انھیں میں سے ایک ممتاز نام فرانس کے جے جے روسو (۱۷۱۲–۱۷۷۸) کا ہے ۔ اس کی مشہور کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) نے فرانس کے لوگوں پر گہرا اثر ڈالا ۔ اس کتاب میں شخصی بادشاہت کے مقابلہ میں عوامی جمہوریت کی وکالت کی گئی تھی ، مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page