Urdu book · دین کامل

دین کامل

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت کا بادشاہی نظام اس کا سخت مخالف ہو گیا ۔ یہاں تک کہ روسو کو اپنا وطن چھوڑ کر سوئزرلینڈ بھاگ جانا پڑا۔ مگر سوئزر لینڈ میں بھی اس کو سکون حاصل نہ ہو سکا ۔ وہ نام بدل کر دوبارہ فرانس واپس آیا ۔ یہاں وہ بے کسی کی حالت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا۔ اس کی بیوی پاگل ہوگئی اور خود روسو کا یہ انجام ہوا کہ وہ مایوسی کے عالم میں ۲ جولائی ۱۷۷۸ء کو انتقال کرگیا۔ روسو اور دوسرے مفکرین کی تحریروں کے نتیجہ میں فرانس میں جمہوریت کی تحریک اٹھی۔ اس وقت فرانس کا آخری بادشاہ لوئی (Louis XVI) وہاں کا حکمران تھا۔ اس نے جمہوری تحریک کی سخت مخالفت کی۔ بادشاہ اور عوام کی اس جنگ میں تقریباً ۳۵ ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔ بہت سے لوگوں کو ملک چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا۔ یہاں تک کہ ۱۷۸۹ء میں فرانس کا جمہوری انقلاب آیا۔ اور پھر سارے یورپ میں چھاگیا۔ دو سو سال پہلے جمہوریت صرف ایک نظریہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس وقت اس کو سخت اجنبیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آج جمہوریت ایک قائم شدہ حقیقت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب وہ اپنے آپ پھیل رہی ہے۔ جب کوئی ”دین“ قائم شدہ دین کی حیثیت اختیار کرلے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے۔ اب وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن جاتا ہے ۔ اب وہ خود بخود پھیلتا ہے ، خواہ اس کو پھیلانے کی کوشش کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔ یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ مکی دور میں اسلام کی حیثیت ایک نظری صداقت کی تھی۔ اس وقت وہ قائم شدہ دین نہیں بناتھا۔ اس لیے مکی دور میں اسلام کو سخت مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر آج اسلام ایک قائم شدہ دین بن چکا ہے۔ اس کی کتاب ایک محفوظ کتاب ہے۔ وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد ساری دنیا میں ایک ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اس قسم کے حقائق نے اسلام کو اب ایک قائم شدہ دین کی حیثیت دیدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے آپ پھیل رہا ہے، وہ اپنے آپ لوگوں کو مسخر کر رہا ہے۔ یہ عمل صدیوں سے تمام دنیا میں جاری ہے۔ دعوتِ دین، اظہارِ دین اسلام میں دو اصطلاحیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ایک ہے ، دعوتِ دین ۔ اور دوسری ہے اظہارِ دین ۔ دعوتِ دین ایک عام حکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دور کے لوگوں کو خدا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page