دین کامل
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
دین سے آگاہ کیا جائے اور اس کو اتمام حجت کے مرحلہ تک پہونچا دیا جائے۔ دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانہ میں کیا۔ اب امت محمدی کو یہ عمل قیامت تک پیدا ہونے والی تمام نسلوں کے سامنے انجام دینا ہے۔ اظہارِ دین کا مطلب حکومت یا قانون کا نفاذ نہیں ہے ۔ یہ ایک خصوصی اور استثنائی معاملہ ہے جس کا تعلق خاتم النبین سے تھا۔ آپ کے ظہور سے پہلے اسلام یا توحید کو صرف ایک نظری حقیقت کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ فکری اور نظریاتی انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہونچی تھی ۔ یعنی دین توحید کے ساتھ بھی تقریباً وہی صورت قائم تھی جس کا ذکر دین جمہوریت کے سلسلہ میں اوپر کیا گیا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خصوصی مدد سے ایسا کیا کہ توحید کی دعوت کو نظری حقیقت کے مرحلہ سے آگے بڑھا کر فکری انقلاب کے مرحلہ تک پہونچا دیا۔ اظہارِ دین حقیقتًا اسی واقعہ کا نام ہے جس کو دوسری جگہ اکمالِ دین (المائدہ ۳) کہا گیا ہے۔ یہ کام پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ آخری طور پر انجام پا چکا اب ہمارا کام یہ ہے کہ نئے پیدا شدہ موافق حالات کو استعمال کر کے خدا کے پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہونچا دیں۔ ابدی تکمیل آیت تکمیل کا ایک وقتی مفہوم ہے اور ایک اس کا ابدی مفہوم ہے۔ وقتی اور فوری اعتبار سے اس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں آپ کی دعوت توحید کے خلاف جو شدید مزاحمت ظاہر ہوئی تھی ، نبوت کے ۲۳ ویں سال میں اس کا زور بالکل ٹوٹ گیا۔ اب شرک آخری طور پر مغلوب ہو گیا اور توحید کے لیے فتح آخری طور پر مقدر ہو گئی۔ مگر قرآن ایک دائمی کتاب ہے جو قیامت تک رہنے والی ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ ان الفاظ میں گویا خدا ماضی سے لے کر مستقبل تک کی پوری انسانیت کو خطاب فرما رہا ہے ۔ وہ ابدی پس منظر میں اپنا ایک بیان دے رہا ہے ۔ قرآن میں جو دعوت توحید ہے ، وہی پچھلے تمام پیغمبروں کی دعوت بھی تھی۔ جس طرح پیغمبر اسلام کی مزاحمت کی گئی ، اسی طرح ہر پیغمبر کی مزاحمت کی گئی۔ اس مزاحمت میں منکرین حق کو یہ کامیابی ہوئی کہ انھوں نے دعوت توحید کی تاریخ بننے نہیں دی۔ چنانچہ قرآن سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں آئیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader