دین کامل
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
سب معدوم یا غیر محفوظ ہو گئیں ۔ خدا کا تصور صحیح صورت میں باقی نہ رہا۔ انسانی تاریخ سے تمام پیغمبروں کا نام حذف کر دیا گیا۔ اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت (۳) کو پڑھیے تو محسوس ہوگا گویا ہزاروں برس کے درمیان پیدا ہونے والے حق دشمنوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اب ان کے لیے یہ موقع ختم ہو گیا کہ حق کے خلاف اپنے منفی عزائم کو پورا کر سکیں۔ اب دعوت توحید کی تاریخ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جب کہ چاہنے کے با وجود وہ اس کو کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔ اب غلبہ ابدی طور پر دعوتِ حق کے لیے مقدر ہو چکا ہے ۔ اب اہل توحید کو اگر کوئی نقصان پیش آئے گا تو خود اپنی کوتاہی سے پیش آئے گا ، دشمنانِ حق کے منصوبے اور ان کی مخالفانہ کارروائیاں انھیں ہرگز کوئی نقصان پہنچانے والی نہیں ۔ فتنے کا خاتمہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ــ ہلاک ہو گئے خندق والے جس میں بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی ۔ جب کہ وہ اس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو وہ دیکھ رہے تھے ۔ اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ لوگ ایمان لائے تھے اللہ پر جو زبردست ہے ، تعریف والا ہے ۔ اس کی بادشاہی آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے ( البروج ۴-۹) اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے زمانوں میں توحید کے داعی کے ساتھ یہ صورت پیش آتی تھی کہ جب وہ لوگوں کو ایک اللہ کی پرستش کی طرف بلاتا تو اس کو سخت عذاب دیا جاتا ۔ حتیٰ کہ گڑھا کھود کر اس کا آدھا جسم زمین میں گاڑا جاتا اور اس کے بعد اس کے سر کے اوپر سے آرا چلا دیا جاتا ۔ یہاں تک کہ اس کا جسم دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گر جاتا ۔ یہ ایک یا دو شخص کی بات نہیں ، یہ پورے ایک دور کی بات ہے ۔ اس میں اس قدیم انسانی دور کی طرف اشارہ ہے جو پیغمبر اسلام سے پہلے ساری دنیا میں رائج تھا ۔ اس زمانہ میں مذہبی جبر کا قانون تمام حکومتوں کے نزدیک مسلم تھا ۔ ہر صاحب اقتدار کو یہ حق حاصل ہوتا تھا کہ وہ لوگوں کو بزور اپنا ہم مذہب بنائے ۔ اور جو لوگ سرکاری مذہب سے الگ کوئی مذہب اختیار کریں ان پر ہر قسم کا ظلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader