دین کامل
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے یہاں تک کہ انہیں مٹادے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کے ان لفظوں میں کہی گئی ہے اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ رکھتی کہ وہ ایک اللہ پر ایمان لائے (البروج ۸) قدیم زمانہ میں وہ چیز ساری دنیا میں رائج تھی جس کو عام طور پر مذہبی عذاب رسانی (Religious persecution) کہا جاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھیکس میں تنذیب (Persecution) کے عنوان سے ایک مفصل مقالہ ہے جو اس کے تقریباً ۳۰ صفحات میں پھیلا ہوا ہے اس مقالہ میں قدیم تاریخ کا مفصل جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ قدیم انسانی سماج بنیادی طور پر مذہب کے معاملہ میں بے برداشتہتا: Ancient society was essentially intolerant (p.743). مذہبی جبر یا مذہبی تنذیب کے اس رواج نے قدیم زمانہ میں مذہبی آزادی کو مکمل طور پر ختم کر رکھا تھا۔ مذہبی تبلیغ کے لیے حالات اس قدر حوصلہ شکن تھے کہ سرکاری مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کی دعوت لے کر اٹھنا اپنے آپ کو آگ کے گڑھے میں ڈالنے یا آرا کے نیچے کھڑا ہونے کے ہم معنی تھا۔ اس قدیم رواج کے بنا پر قدیم زمانہ میں ایسا ہوا کہ توحید کی دعوت ابتدائی مرحلہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ توحید کے داعیوں کا اس طرح استیصال کیا گیا کہ نہ ان کی کتا بیں محفوظ رہیں اور نہ ان کی شخصیتیں مدون تاریخ میں درج ہو سکیں۔ مذہبی تنذیب کا یہ سلسلہ ہزاروں برس تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خاتم النبیین کی بعثت عرب میں ہوئی۔ مخصوص مصالح کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذمہ یہ کام کیا کہ آپ اللہ کی مدد سے تنذیب مذہب کے اس دور کو ختم کر دیں، خواہ اس کے لیے ظلم کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرنی پڑے ۔ یہی وہ حکم ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں دیا گیا ہے : اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے (الانفال ۳۹) فتنہ کے معنی وہی ہیں جس کو انگریزی میں Persecution کہتے ہیں۔ اس آیت میں فتنہ کو ختم کرنے سے مراد مذہبی تنذیب کو ختم کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس کے مطابق دعوت سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ آپ کی دعوت کا ایک بنیادی نکتہ یہ بھی تھا کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ۔ (لا اکراہ فی الدین) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر دین صحیح ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر دین والے کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ جس دین کو چاہے اختیار کرے۔ نیز یہ کہ اگر وہ اپنے آبائی دین پر مطمئن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader