دین کامل
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ ہو تو وہ اس کے لیے بھی آزاد ہے کہ اپنے قدیم دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے ایک طرف لوگوں کو اس دین توحید کی دعوت دی جس کو وہ حق سمجھتے تھے اور دوسری طرف اس نظام کو عملی طور پر ختم کرنے کی جدوجہد کی جو مذہبی جبر کے اصول پر قائم تھا۔ اس کے نتیجہ میں اس وقت کے حاکموں اور فرمانرواؤں سے آپ کا ٹکراؤ ہوا۔ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے دفاع میں لڑائیاں لڑیں ۔ چوں کہ اس معاملہ میں آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو اللہ تعالی کی خصوصی مدد حاصل تھی، آپ کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ ایشیا اور افریقہ کی وہ بڑی بڑی شہنشاہیتیں مٹ گئیں، جنھوں نے مذہبی جبر کے اوپر اپنا اقتدار قائم رکھا تھا۔ تاریخ انسانی میں اس انقلاب کو مورخین نے مختلف انداز سے تسلیم کیا ہے۔ فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے اس کو قدیم وجدید کے درمیان بنیادی انفصال (Essential break) اور مطلق العنان بادشاہت (Emperical absolutism) کے خاتمہ سے تعبیر کیا ہے۔ اس نے اس انقلابی واقعہ کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے زمین کی صورت کو بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی نظام اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. اس انقلابی تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا کہ دین حق کی دعوت کا وہ کام آزادانہ ماحول میں ہونے لگے جو پہلے صرف تشدد اور جارحیت کے ماحول میں انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ یہ تکمیل دین کا نہایت اہم پہلو ہے جس کو قرآن میں فتنہ کو ختم کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے انسانی زندگی میں جو انقلاب برپا کیا وہ اتنا عظیم اور ہمہ گیر تھا کہ وہ خود تاریخ میں شامل ہو گیا۔ وہ انسانی فکر اور انسانی تحریکات کا ایک مؤثر عنصر بن گیا۔ چنانچہ اس کے بعد انسانی تاریخ اسی رخ پر سفر کرنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ دور آگیا جب کہ مذہبی آزادی کو عالمی طور پر ایک مسلمہ حق کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ وہ تہذیب جدید کی نظریاتی بنیاد قرار پائی اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تمام دنیا کی قوموں نے اس پر اپنا دستخط ثبت کر دیا۔ اب مذہبی آزادی ایک ایسا مانا ہوا حق ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader