Urdu book · دین کامل

دین کامل

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

تشدد غیر مؤثر بیسویں صدی کے ربع آخر کے واقعات مزید یہ بتاتے ہیں کہ انسانی تاریخ سفر کرتے کرتے اب ایک ایسے دور میں داخل ہوگئی ہے جب کہ تشدد عملی طور پر غیر مؤثر حیثیت کے درجہ پر پہونچ گیا ہے۔ اب سیاسی اور فوجی طاقت کی وہ سابقہ نوعیت ہی ختم ہوگئی ہے جو پہلے اسے حاصل تھی۔ اب فوجی طاقت ، ایک فیصلہ کن طاقت کی حیثیت سے ، کوئی وجود نہیں رکھتی ۔ اس اعتبار سے دوسری عالمی جنگ تاریخ انسانی کی آخری جنگ تھی ۔ اب انسانی دنیا کے لیے یہ مقدر ہو چکا ہے کہ جنگ سے کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں ۔ ویت نام کی جنگ تقریباً گیارہ سال (۱۹۶۵-۷۵) تک جاری رہی ۔ مگر امریکہ اپنی زبردست فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود کامیاب نہ ہوسکا اور ایک طرفہ طور پر وہاں سے واپس چلا آیا۔ سوویت روس نے دسمبر ۱۹۷۹ میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس کی فوجیں ہر قسم کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر ۹ سال تک سارے ملک میں تباہی و بربادی مچاتی رہیں۔ مگر انھیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ ۔ سوویت روس نے ۱۹۸۸ میں یک طرفہ طور پر اپنی فوجوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا۔ عراق اور ایران کے درمیان ۱۹۸۰ میں جنگ شروع ہوئی۔ ۸ سال تک وہ پوری خوف ناک کے ساتھ جاری رہی جس میں دونوں طرف کے تقریباً دس لاکھ آدمی ہلاک ہو گئے ۔ بے شمار بلین ڈالڑ خرچ ہوئے ۔ مگر دونوں میں سے کوئی ملک ایک فیصد کے بقذر بھی کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکا یہاں تک کہ ۱۹۸۸ میں دونوں کو راضی ہونا پڑا کہ وہ اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس چلے جائیں اور جنگ کو ختم کر دیں ۔ زمانہ جدید کو سمجھنے کے لیے ایک بڑی سبق آموز مثال جاپان کی ہے ۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور جاپان کے درمیان جنگ ہوئی جس میں فوجی اعتبار سے امریکہ فتح یاب ہوا اور جاپان کو جنگ کے میدان میں مکمل شکست ہوئی ۔ اب جاپان کے لیے سیاسی اور فوجی میدان میں کچھ کرنے کا موقع باقی نہ رہا تھا۔ اس نے سائنسی اور اقتصادی میدان میں اپنی ساری توجہ لگا دی۔ اس کی یہ کوشش اتنی کامیاب رہی کہ ہم سال کے اندر خود تاریخ بدل گئی ۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ امریکی میگزین ٹائم (۴م جولائی ۱۹۸۸) نے ایک مفصل آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا سپر جاپان (Super Japan) اس میں اس نے دکھایا کہ جاپان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page