دین کامل
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
کو پیدا کیا تا کہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرنے والا ہے (۲ : ۶۷) تخلیقی منصوبہ کی یہ نوعیت لازمی طور پر چاہتی ہے کہ انسان کو اس سے پوری طرح باخبر کر دیا جائے تاکہ قیامت میں جب تمام لوگ حساب کے لیے جمع کیے جائیں تو کسی کو یہ کہنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم سے ایک ایسی بات پر باز پرس کی جارہی ہے جس کے بارہ میں ہمیں پہلے سے کچھ معلوم ہی نہ تھا۔ اگر لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حجت لوگوں پر نہ رہی بلکہ حجت اللہ کی طرف چلی گئی۔ یہی خاص مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی و رسالت کا نظام قائم کیا۔ کچھ لوگوں کو منتخب کر کے انھیں اپنا مستند نمائندہ مقرر کیا اور انھیں خصوصی ذرائع سے حقیقت کا علم دیا اور ان کی یہ لازمی ذمہ داری قرار پائی کہ وہ تمام لوگوں کو حقیقت واقعہ سے باخبر کر دیں۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے : اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے (۲ : ۱۶۵) پیغمبر کے بعد عین یہی ذمہ داری اب پیغمبر کے پیروؤں پر ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ختم نبوت کے بعد سلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ وہ پیغام رسانی کے اس کام کو ہر دور میں لے کر اٹھیں اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ دعوت کا کام کر کے اقوام عالم پر خدا کی حجت تمام کریں۔ اسی کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ بنے اور تم لوگوں کے اوپر گواه بنو (۲۲ : ۷۸) یہ کام وہ ہے جو خود خدا کو مطلوب ہے ، اس لیے جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں ان کے لیے اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ خدا کی طاقتیں ان کا ساتھ دیں گی۔ یہی بات ہے جو مذکورہ آیت کے ان لفظوں میں کہی گئی ہے : وكان الله عزيزاً حكيماً (النساء ۱۶۵) دعوت سے حفاظت قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم داعی الی اللہ (۳۳ : ۴۶) بنا کر بھیجے گئے تھے، یہی آپ کی اصل حیثیت تھی۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ قرآن کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ بقیہ تمام چیزوں کا انحصار اسی ایک چیز کے اوپر تھا۔ اگر آپ یہ کام مکمل طور پر کر دیں تو بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ خدا کی طرف سے دیدی جائیں گی۔ اور اگر یہ کام انجام نہ پائے تو بقیہ چیزیں بھی ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader