دین کامل
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی شخص یا گروہ کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت حفاظت اور بچاؤ کی ہوتی ہے۔ لوگ عام طور پر مخالفوں کی جارحیت اور دشمنوں کے مخالفانہ منصوبے کو اپنا مسئلہ نمبر ایک سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد کو اپنے لیے سب سے زیادہ ضروری خیال کرتے ہیں، مگر قرآن میں پیمبر کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اس قسم کے مسائل پر الگ سے طاقت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم دعوت کا کام کرو اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے کہ تمہارے سے حفاظتی مسائل اپنے آپ حل ہوتے چلے جائیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت بہت زیادہ قابل غور ہے: اے رسول، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے، اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ بے شک اللہ منکر لوگوں کو راہ نہیں دیتا (۵: ۶۷) اس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عصمت من الناس جیسے مسئلہ کا راز بھی تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے ۔ نہ صرف عام حالات میں ہمارے لیے پیمبر کا اسوہ یہ ہے کہ ہم یکسوئی کے ساتھ اللہ کے پیغام کی پیغام رسانی میں لگے رہیں بلکہ ہنگامی حالات میں، جب کہ دشمنوں کی طرف سے ہمارا وجود خطرہ میں پڑ گیا ہو جب کہ تحفظ اور دفاع کا مسئلہ اہم ترین مسئلہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اس وقت بھی اسی سنت نبوی (دعوت الی اللہ) کے محاذ پر اپنی کوشش صرف کرتے رہیں۔ کیوں کہ دوسری جو چیزیں ہم چاہتے ہیں، اس کے دروازے بھی اسی جدوجہد سے کھلیں گے۔ فطری مذہب مسٹر عبد الاحد عمر ایک نومسلم ہیں جو ٹورانٹو (کناڈا) میں رہتے ہیں۔ پہلے ان کا نام گاری ملر (Garry Miller) تھا اور وہ بائبل ٹیچر تھے۔ ۱۹۷۸ء میں انھوں نے اتفاقی طور پر قرآن کو پڑھا وہ اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا : He likes to call himself a “revert” to Islam. “I haven’t converted to Islam but merely reverted to my birthright deen (religion). The Prophet said, every child is born a Muslim. (Muslim Journal, Chicago. June 21, 1985) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے، اور اسی فطرت پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader