Urdu book · دین کامل

دین کامل

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ ۱۷۱۹ میں جو عبرانی کیلنڈر (Hebraic calender) شائع کیا گیا ۔ اس کے مطابق ۱۷۱۹ تک زمین کی عمر ۳۷۴۵ سال تھی ۔ جب تک جدید سائنس کا ظہور نہیں ہوا تھا اور سارا معاملہ مفروضہ عقائد پر چل رہا تھا ، اس وقت تک زمین یا آدم کی عمر کے بارہ میں اس بیان پر کوئی سوال نہیں اٹھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب ارضیاتی تحقیقات ظہور میں آئیں اور قدیم انسان کے متبحر ڈھانچے برآمد ہوئے تو معلوم ہوا کہ زمین کی عمر یا انسان اول کا زمانہ اس سے بہت زیادہ ہے جو بابل کے علماء نے بابل کے بیانات کا حساب کر کے سمجھا تھا ۔ جیمز ہٹن (James Hutton) اور چارلس لائل (Charles Lyell) اور ایڈورڈ بلائٹڈ (Edward Blyth) وغیرہ نے اٹھارویں صدی کے نصف آخر اور انیسویں صدی کے نصف اول میں اس موضوع پر بے شمار تحقیقات کیں اور بالآخر یہ ثابت ہو گیا کہ زمین کی مدت اور انسان اول کی عمر کے بارہ میں بابل کا بیان سراسر خلاف واقعہ ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : Fred Hoyle, The Intelligent Universe, London 1983, pp. 28-30. اس معاملہ میں قرآن کی مثال بالکل مختلف ہے۔ قرآن میں کثرت سے ایسے بیانات موجود ہیں جو تاریخ ، طبیعیات ، ارضیات ، فلکیات وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر سارے قرآن میں ابھی تک کسی ایک بھی ایسے بیان کی نشان دہی نہ کی جاسکی جو دور جدید کی تحقیقات سے ٹکرانے والا ہو۔ جو نئی دریافتوں کے بعد خلاف واقعہ ثابت ہو جائے ـــــــــ بطور مثال ایک واقعے لیجئے ۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کے فرعون کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو (یونس ۹۲) جس وقت قرآن میں ابتدائیہ الفاظ اترے، اس وقت ساری دنیا کے لیے یہ ایک لامعلوم بات تھی ۔ اس وقت کوئی بھی شخص نہیں جانتا تھا کہ فرعون موسیٰ کی لاش کہیں محفوظ حالت میں موجود ہے۔ مگر نزول قرآن کے چودہ سو سال بعد جب مصر کی تاریخی یادگاروں کی تحقیقات کی گئی تو حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ فرعون موسیٰ کا مومیائی کیا ہوا جسم مصر کے صحرا میں واقع اہرام کے اندر آج بھی اسی طرح موجود ہے ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو غظت قرآن ، صفحہ ۳۰-۳۲) اس نوعیت کے بہت سے شواہد قرآن میں موجود ہیں۔ وہ اسلام کی حقانیت کی تصدیق خالص علمی اعتبار سے کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کو نیا استحکام عطا کرتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page