غلطی کی نوعیت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
کا سوال ہے، اس ڈھنگ پر ہمارے یہاں نسبتاً کم کام ہوا ہے ، تاہم تصوف کو بنیادی اعتبار سے تیسرے انداز کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے ________ مولانا مودودی کے دعوتی فکر کا شمار اسی تیسری قسم میں ہے ۔ انھوں نے جس انداز سے دین کا تعارف کرایا ہے، وہ مذکورہ بالا تعریف کے مطابق پورے معنوں میں ایک تعبیر ہے۔ مولانا مودودی کی دینی تعبیر کو ایک لفظ میں سیاسی تعبیر کہا جا سکتا ہے ۔ مجھے اعتراف ہے کہ کوئی لفظ، خاص طور پر اصطلاحی لفظ، کبھی کسی صورتِ حال کا مکمل ترجمان نہیں ہوتا، تا ہم مولانا مودودی کی تحریروں کے نتیجہ میں دین کی جو تصویر سامنے آتی ہے، اُس کو ظاہر کرنے کے لئے قریب تر لفظ ” دین کی سیاسی تعبیر“ ہی ہے مولانا نے دین کو ایک جامع تعبیر کی شکل دینے کے لئے جس طرح اس کی تشریح کی ہے ، اس میں سیاست کا پہلو اس طرح ابھر آیا ہے کہ وہی پورے مجموعہ کا مرکزی نقطہ بن گیا ہے ________ سیاست کے بغیر نہ رسالت کا مقصد معلوم ہو سکتا ، نہ عقائد کی پوری معنویت سمجھ میں آتی ، نہ نماز اور عبادت کی اہمیت صحیح طور پر واضح ہوتی ، نہ تقویٰ اور احسان کے مراحل طے ہوتے ، نہ معراج کا سفر با معنی نظر آتا ۔ غرض سیاست کے بغیر پورا دین اس طرح خالی اور ناقابل فہم رہتا ہے جیسے مولانا مودودی کے الفاظ میں وہ اپنے ” تین چوتھائی “ سے زیادہ ” جزو سے محروم ہو گیا ہو ۔ اس تمہید کے بعد اب میں اصل بات کی تفصیل پیش کرتا ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader