دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کی سیاسی تعبیر " معاش کا مسئلہ زندگی کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے، ہر شخص کے لئے اس کی فراہمی کی سہولتیں مہیا ہونی چاہئیں اور کسی کو یہ موقع نہیں دیا جانا چاہئے کہ وہ ناجائز طور پر دوسرے کا مالی استحصال کر سکے" _ یہ باتیں ایسی ہیں جن سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مگر یہی چیز جب" مارکسزم" کی شکل اختیار کرتی ہے تو ہر سمجھ دار آدمی اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ وہ اس کی مخالفت کرے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ ایک اور صرف ایک ہے ، وہ یہ کہ معاشیات جو اپنی ساری اہمیت کے باوجود صرف ایک سادہ سی حقیقت تھی ، وہ مارکس کے فکری ڈھانچہ میں مکمل فلسفہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ معاش زندگی کا ایک جزوی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ وہ زندگی کا کل مسئلہ بن جاتا ہے ۔ اب اسی کی روشنی میں تمام واقعات کی تشریح کی جاتی ہے ، اسی کے لحاظ سے افراد اور جماعتوں کی اہمیت متعین ہوتی ہے اسی کی بنیاد پر جذبات و خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔ وہی ساری کش کش اور جدوجہد کا محور قرار پاتی ہے۔ غرض ذہن و عمل کی ساری دنیا اسی کے رنگ میں رنگ جاتی ہے ۔ زندگی کے دوسرے پہلو اگرچہ اس کے بعد بھی باقی رہتے ہیں ، وہ لازماً ختم نہیں ہو جاتے۔ مگر وہ سب کے سب اسی ایک اصل کے تابع ہوتے ہیں ۔ اس سے الگ وہ اپنے اندر کوئی معنویت نہیں رکھتے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader