دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
یورپ میں اشتراک کی خیالات کا آغاز ابتداً صرف اس وقتی صورتِ حال کے پیشِ نظر ہوا جو صنعتی انقلاب کے بعد معاشی زندگی میں رونما ہوگئی تھی ۔ صنعت میں ٹکنالوجی کے استعمال نے عوام اور مزدور پیشہ طبقہ کی زندگی جس طرح ابتر کردی تھی، اُس کو دیکھ کر کچھ درد مند لوگ تڑپ اُٹھے اور اُنھوں نے چاہا کہ ایسی اصلاحات جاری کی جائیں جن سے صنعتی انقلاب کے ثمرات میں غیر سرمایہ دار طبقہ کو بھی اسی طرح حصہ ملے جیسے سرمایہ دار طبقہ کو مل رہا ہے ۔ گویا اشتراکیت کی بنیاد اپنے آغاز میں صرف ایک معاشی قدر تھی۔ مگر جب تک کسی حقیقت میں مبالغہ کا عنصر شامل نہ کیا جائے اُس میں زور پیدا نہیں ہوتا اور نہ وہ عام ذہنوں کو اپیل کرتا۔ اس طرح دعوتی اور انقلابی نفسیات نے اشتراکی مفکرین کے کلام میں پہلے شدت اور مبالغہ کا عنصر پیدا کیا اور اس کے بعد دھیرے دھیرے انہیں یہاں تک پہنچایا کہ اُنھوں نے معاش کی بنیاد پر ایک پورا نظامِ فکر بنا ڈالا جس میں ساری چیز معاش کے گرد گھومتی تھی اور اسی کے تابع تھی، مارکس ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل ہے جو اپنے سے پہلے (انیسویں صدی کے وسط تک) کی اشتراکیت کو یوٹوپین سوشلزم کہتا ہے اور اپنے بعد کی اشتراکیت کو سائنٹفک سوشلزم ۔ جب تک اشتراکیت کا مطلب معاشی اصلاحات پر زور دینا تھا ۔ اس وقت تک اس میں کوئی خاصی خرابی پیدا نہیں ہوئی تھی مگر جب اُس نے مارکسی فلسفہ کی شکل اختیار کی تو وہ بنیادی طور پر غلط ہوگئی۔ یہی صورت دین میں بھی پیش آسکتی ہے ۔ ایک مخصوص زمانہ اور مخصوص حالات میں کوئی دینی قدر پامال ہورہی ہے ۔ اس کو دیکھ کر ایک صاحبِ ایمان تڑپ اُٹھتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader