دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کو زندہ کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔ شدتِ تاثر اور دعوتی مصالح دونوں مبالغہ چاہتے ہیں۔ اس لئے قدرتی طور پر ایسا ہوگا کہ وہ شخص جب اپنے مدعا کی تبلیغ کرے گا تو اس میں فقہی اور منطقی زبان استعمال نہیں کرے گا بلکہ خطابی اور دعوتی زبان میں بولے گا۔ لگے بندھے انداز کے بجائے طوفانی اور جذباتی انداز میں کلام کرے گا۔ اور ظاہر ہے کہ دعوتی جذبات کے تحت جو الفاظ منہ سے نکلتے ہیں وہ ناپ تول کے پابند نہیں ہوتے۔ مثلاً مشہور تابعی عالم سعید ابن مسیب کا واقعہ ہے ، آپ کے غلام برد نے ایک مرتبہ آپ سے بعض آدمیوں کی کثرتِ عبادت کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ لوگ ظہر سے عصر تک برابر عبادت کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ ”برد ! خدا کی قسم یہ عبادت نہیں ہے۔ تم جانتے بھی ہو عبادت کسے کہتے ہیں ۔ عبادت کہتے ہیں امورِ الہیٰ میں غور و فکر کرنے اور اس کے محارم سے بچنے کو۔“ (طبقات بن سعد ، جلد ۵ ، صفحه ۱۰۰ ) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعید بن مسیب جیسا عالم اور خدا ترس اس حقیقت سے نا واقف تھا کہ نماز ، روزہ اور ذکر و تلاوت ، سب کے سب عبادتی امور ہیں۔ یہ دراصل ایک دعوتی کلمہ ہے نہ کہ فقہی اور منطقی کلمہ۔ فقیہہ جب کسی چیز کے بارے میں اپنا بیان دیتا ہے تو وہ اس کو بطور مسئلہ بیان کرتا ہے ، وہ احکام کو ان کی اصل حیثیت میں واضح کرتا ہے۔ مگر داعی کے پیش نظر مسئلہ کی علمی اور قانونی تشریح نہیں ہوتی۔ بلکہ اصلاحِ احوال اس کا مقصود ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ کونسی بات ہے جس کی لوگوں کے اندر کمی ہے اور جس کو خاص طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے وہ قانونی ترتیب کو چھوڑ کر افادی ترتیب کو اختیار کرتا ہے۔ وہ مسئلہ کے اس جزو پر زور دیتا ہے جس پر موقع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader