Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کی مناسبت سے زور دینے کی ضرورت ہے۔ اور ان اجزا کو یا تو حذف کر دیتا ہے، یا انھیں ہلکا کر کے بیان کرتا ہے جن پر زور دینا تبلیغی افادیت کے نقطۂ نظر سے اس وقت ضروری نہ ہو۔ کلام کا یہ انداز شریعت کے عین مطابق ہے اور اس کی مثالیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے لے کر تمام داعیانِ اسلام کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں ملتی ہیں ۔ اس کے بغیر دعوتی ڈھنگ سے اسلام کا کام نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک بات بالکل صحیح ہے۔ مگر بعض اوقات خود صاحبِ کلام یا اس کے معتقدین اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اپنے اندر محض داعیانہ قدر نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ علی الاطلاق دین کی تشریح ہیں۔ بس یہیں سے غلطی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک داعی حق کے سامنے ایک مصنف اپنے ان خیالات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ اسلام کے بارے میں کتابیں شائع کرے اور اس طرح خدمتِ دین کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ داعی جواب دیتا ہے: ”کتابوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ تم بیٹھ کر لکھو گے اور لوگ لیٹ کر پڑھ لیں گے“۔ یہ جملہ دراصل ایک خاص تصنیفی پس منظر میں کہا گیا تھا۔ اب اگر بعد کے متبعین اس کو علی الاطلاق ایک عمومی حقیقت سمجھ لیں اور لٹریچر کے ذریعہ دین کی خدمت کو اپنی فہرست سے ہمیشہ کے لئے خارج کر دیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک فقرہ جو صرف وقتی اور جزوی صداقت کا حامل تھا، اس کو آنکھوں نے علی الاطلاق دائمی صداقت فرض کر لیا، پہلے مفہوم کی حد تک بات اپنی جگہ صحیح تھی، مگر دوسری شکل اختیار کرنے کے بعد وہ غلط ہوگئی۔ یہ غلطی بعض اوقات اس سے بھی آگے بڑھتی ہے اور مقامی نوعیت سے گزر کر عمومی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page