Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

شکل اختیار کرلیتی ہے۔ داعی کے اوپر بھی اپنے فکر کا اتنا غلبہ ہو جاتا ہے کہ وقتی طور پر اُس نے جس جزوِ دین پر زور دینے کی ضرورت محسوس کی تھی، وہی جزو اسے کلی حقیقت نظر آنے لگتا ہے اور وہ اسی کی روشنی میں سایے دین کی تشریح شروع کر دیتا ہے ، وہ اس جزو پر صرف اس کی انفرادی حیثیت میں زور دینے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اسی ایک جزو کو پورے مجموعہ کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ ساری سی خوبیوں اور خرابیوں کے اسباب اس کو اسی ایک چیز میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر غلطی اپنی آخری حد کو پہنچ جاتی ہے۔ اور وہ چیز جو دین کا صرف ایک حصہ (بعض حالات میں اضافی حصہ) تھی، وہی کل دین بلکہ اصل دین بن جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں معاش کا مسئلہ مارکسزم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ مارکسزم، زندگی کی ایک جائز قدر کی حامل ہونے کے باوجود اپنی تشریح کے اعتبار سے بالکل غلط ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ ایک شکل یہ ہے کہ آدمی کسی زرد چیز پر نگاہ جما کر اُس کو دیکھ رہا ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ زرد رنگ کے شیشہ کی عینک پہن لے یا اس کو یرقان کا عارضہ ہو جائے ۔ پہلی صورت میں بلا شبہ وہ جس چیز کو دیکھ رہا ہے وہ زرد ہی نظر آئے گی اور اگر اس کے مشاہدے میں استغراق وانحکاز پیدا ہو جائے تو کم از کم ایک وقت خاص تک اس کو زردی کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ مگر جیسے ہی انحکاز ختم ہوگا یا نظر دوسری طرف جائے گی، ہر چیز اس کو اپنے واقعی رنگ میں نظر آنے لگے گی ۔ لیکن دوسری صورت میں یہ ہوگا کہ آدمی خواہ کسی طرف دیکھ رہا ہو اور کسی حالت میں ہو، اُس کو ایسا نظر آئے گا گویا ہر چیز زردی میں نہائی ہوئی ہے۔ چیزیں سب نظر آئیں گی مگر ہر ایک کا رنگ زرد ہوگا ۔ اس کے سواد و سر اکوئی رنگ اسے نظر ہی نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page