دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
آئے گا۔ کسی چیز پر دعوتی نقطہ نظر سے زور دینے اور اس کو تعبیر بنا دینے میں کیا فرق ہے؟ اس کو ایک اور مثال سے سمجھئے ۔ فرض کیجئے ایک شخص کہتا ہے کہ :۔ " ہر مسلمان کے لئے مسلمان ہونے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر فوجی اسپرٹ پیدا کرے " بظاہر اس جملہ میں کافی مبالغہ ہے۔ کیونکہ ہر مسلمان کے لئے فوجی بننا تقریباً ناقابلِ عمل بات ہے ۔ ”مسلمانوں“ میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ، بچے بھی ہیں اور بوڑھے بھی ، کمزور بھی ہیں اور مضبوط بھی ، بیمار بھی ہیں اور تندرست بھی ، تاہم اس مبالغہ کو داعیانہ شدت کہا جا سکتا ہے ۔ مبالغہ کی اس منطقی خامی کے علاوہ اس میں کوئی ایسا نقص نہیں ہے جس سے دین کا تصور مجروح ہوتا ہو یا اس کی کوئی نئی اور انوکھی تعبیر وجود میں آئے ۔ اس کے برعکس اگر کہنے والا اس قسم کی تقریر شروع کر دے :- اسلام کی اصل رُوح عسکریت ہے ۔ کتب سماوی کا نزول اور انبیاء کی بعثت اسی لئے ہوئی تھی کہ وہ لوگوں کے اندر فوجی اسپرٹ پیدا کریں اسلام کے تمام اعمال کا آخری مقصود اپنے پیرووں کی فوجی تربیت کرنا ہے ۔ اذان ایک قسم کا فوجی بگل ہے اور اذان کے بعد تمام نمازیوں کا مسجد میں آنا گویا فوجیوں کا بگل کی آواز سن کر پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہونا ہے ۔ روزہ فوجی مہم کے دوران سختیوں کو برداشت کرنے کی مشق ہے ۔ حج ، خدا کے گھر کے سامنے ساری دنیا کی مسلمان افواج کا مارچ پاسٹ ہے اُمّتِ مسلمہ ایک قسم کی خدائی فوج ہے اور اسلام وہ فوجی قانون ہے جو بزور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader