Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

نافذ کرنے کے لئے اُسے دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا ہے :- کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنکر اگر کوئی شخص اس قسم کی تقریر کرنے لگے تو کہا جائے گا کہ وہ دین کی عسکری تعبیر کر رہا ہے۔ پہلا جملہ دوعبانہ شدت اور زور کی مثال ہے ۔ اس کے برعکس دوسری تقریر میں بات آگے بڑھ کر ایک نئی تعبیر دین تک پہنچ گئی ہے ۔ پہلے جملہ میں صرف عسکریت پر زور دیا گیا تھا۔ جبکہ دوسری تقریر میں عسکریت کو بنیاد بنا کر اسی کی روشنی میں سارے دین کا مطالعہ کیا گیا ہے اور دین کے تمام اجزا کی اہمیت اس اعتبار سے متعین کی گئی ہے کہ وہ عسکریت سے کس طرح اور کس نوعیت کا تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری موجودہ بحث کے اعتبار سے دعوتی تاکید وتشدید اور تعبیر دین میں جو فرق ہے وہ یہ کہ پہلی صورت میں آدمی صرف ایک چیز کی ضرورت کا اظہار کرتا ہے اور دوسری صورت میں اسی کو پورے دین کو سمجھنے کی بنیاد قرار دے دیتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ ایک چیز پر بطور ایک اکائی زور دیتا ہے اور دوسری صورت میں اسی اکائی کی روشنی میں پورے مجموعہ کی قدر وقیمت متعین کرتا ہے۔ پہلی صورت میں ایک جزو پر زور دینے کے باوجود دیگر اجزا کی اہمیت زائل نہیں ہوتی ۔ اور دوسری صورت میں وہ اس کو نظام دین میں ایک ایسا مقام دیدیتا ہے کہ اس کے بغیر سارا دین بے معنی نظر آنے لگے ۔ پہلی صورت میں متعلقہ جزو کی جو بھی اہمیت ہوتی ہے، وہ اس کی انفرادی حیثیت میں ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وہی جزو دیگر تمام اجزا کے لئے سبب جامع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پہلی صورت میں متعلقہ جزو گویا کتاب کا صرف ایک ورق ہوتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں وہ کتاب کے تمام اوراق کا شیرازہ بن جاتا ہے، مختصر یہ کہ دعوتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page