Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

تاکید و تشدد محض عملی ضرورت کے تحت کسی چیز پر خصوصی زور دینے کا نام ہے اور تعبیر کی صورت میں آدمی اس حقیقت کو یہاں تک لے جاتا ہے کہ اس کو ایک فلسفہ بنا دیتا ہے۔ مولانا مودودی کے دعوتی لٹریچر کے سلسلے میں میرا اعتراض یہی ہے کہ اُنھوں نے دین کے سیاسی پہلو کو اہمیت دینے میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ اس کو ایک تعبیر بنا ڈالا ۔ مجھے اس سے اختلاف نہیں کہ اُنھوں نے سیاست کو دین میں کیوں شامل کیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ سیاست بھی دین میں شامل ہے اور نہ میں اس کو غلط سمجھتا ہوں کہ اُنھوں نے اپنی تحریروں میں سیاسی پہلو پر خصوصیت سے بہت زور دیا ہے۔ کیونکہ داعی کسی وقت خاص میں دین کے جس پہلو پر خصوصی زور دینے کی ضرورت محسوس کرے، اس کو بہ حال اس وقت اس پہلو پر زور دینا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر لوگوں میں وہ اکساہٹ پیدا نہیں ہوسکتی جو انقلابی عمل کے لئے ضروری ہے، اگر بات صرف اتنی ہوتی تو کسی کو اس پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ اُنھوں نے سیاسی پہلو کو اتنا بڑھایا کہ وہ دین کی سیاسی تعبیر تک پہنچ گیا۔ گویا معاش کے مسئلہ نے اپنی واقعی حد سے گزر کر مارکِسنم کی صورت اختیار کرلی اور عسکریت کی جائز اہمیت نے آگے بڑھ کر خاکسار پارٹی تک نوبت پہنچادی۔ نیز اس برصغیر میں اسلامی سیاست کے احیا کی خواہش میں بھی مولانا مودودی منفر د نہیں ہیں ۔ ہر درد مند مسلمان اور ہر اسلامی گروہ اپنے انداز سے اس کے بارے میں سوچنا ہے اور اپنے اپنے تصور کے مطابق اس کی کوئی نہ کوئی تدبیر بھی ہر ایک کے سامنے ہے۔ بلاشبہ حالات کے مطالعہ اور طریقِ کار کے اختلاف کی وجہ سے ان میں بہت کچھ فرق ہے مگر کوئی اس تمنا سے خالی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ دن لائے جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page