Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کو غلبہ اور اقتدار حاصل ہو۔ یہاں تک مختلف اسلامی حلقوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے ۔ فرق در اصل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے مولانا مودودی کی مخصوص تعبیر کا آغاز ہوتا ہے ۔ یہ فرق اس اعتبار سے نہیں ہے کہ مولانا مودودی سیاست پر زور دیتے ہیں، بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ ایک خاص طرح کی ذہنیت پیدا کرتے ہیں جو ہر چیز کو بس سیاست کے رنگ میں دیکھنے لگتی ہے، یوں سمجھیے کہ دنیا میں بہت سے حلقے ہیں جو معاشی اصلاح کے طالب ہیں اور مارکسی اشتراکیت بھی معاشی اصلاح کی طالب ہے۔ مگر اس کے باوجود مارکسی اشتراکیت اپنے تمام ہم سفروں سے جُدا ہے، یہ جُدائی معاشی اصلاح چاہنے یا نہ چاہنے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ کس کے نزدیک معاشی اصلاح کا کیا مقام ہے اور زندگی اور کائنات کی وہ کیا توجیہہ ہے جس سے وہ اپنا تصور اخذ کرتا ہے۔ ۱۸۵۷ء میں دہلی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ہندوستان کے علما نے سیاسی ادارہ کو دوبارہ واپس لانے کی جو کوشش شروع کی، اس میں بھی سیاست پر کافی زور دیا گیا تھا۔ نظری اعتبار سے سیاسی پہلو کو مبالغہ آمیز شدت کے ساتھ بیان کرنا اور عملی اعتبار سے اُس کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت اور محنت صرف کرنا دونوں قسم کے مظاہر ہر ہم اُن کی زندگیوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اس وقت تک سیاست نے تعبیر کی صورت اختیار نہیں کی تھی، بلکہ وہ دین کی ایک وقتی ضرورت کا داعیانہ اظہار تھا۔ مولانا مودودی کے یہاں آکر اُس نے ایک مستقل تعبیر دین کی صورت اختیار کرلی۔ پہلے سیاست کو دین کا ایک پہلو سمجھ کر اس پر زور دیا گیا تھا، اور اب سیاست کو مرکزی خیال قرار دے کر اسی کی بنیاد پر سارے دین کی تشریح کی جانے لگی۔ علما کی سیاسی تحریک اور مولانا مودودی کے مخصوص فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page