Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

مولانامودودی کا لٹریچر

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانامودودی کا لٹریچر مولانامودودی کی غلطی اپنے انتہائی مفہوم میں اُن لوگوں سے مشابہ نہیں ہے جو دین میں کسی جزو کی کمی (مثلاً سنت کا انکار یا دین میں کسی جزو کی زیادتی (مثلاً نئی نبوت کا دعویٰ) کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اُن کی اصل غلطی یہ ہے کہ اُن کے ذہن میں دین کا فلسفہ بدل گیا۔ بقیہ خرابیاں جو اُن کے یہاں نظر آتی ہیں وہ سب اسی ایک غلطی کا شاخسانہ ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ نظریہ بنائے کہ " زندگی کا مقصد پیسہ کمانا ہے" تو اپنے اس قول سے وہ زندگی کے تمام لوازم اور اُس کے متعلقات کا انکار نہیں کر دے گا۔ اور نہ اُن میں کمی بیشی کا مجرم ہوگا۔ اپنی ذات سے لیکر مذہب و اخلاق اور سماج تک ہر ایک سے اُس کا تعلق باقی رہے گا۔ البتہ تعلقات کے بارے میں اُس کا نقطہ نظر بدل جائے گا۔ اپنی ذات کے تقاضے وہ اس لئے پورے کرے گا تاکہ اُس کو خوب کمانے کے قابل بنائے رکھے سماجی تعلقات کی اہمیت اُس کے نزدیک اس اعتبار سے ہوگی کہ اس طرح لوگوں سے منفعت حاصل کرنے میں مدد ملے گی، صدقات و خیرات کا محرک کاروبار میں برکت حاصل کرنا ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ ایسی ہی نوعیت مولانامودودی کی غلطی کی بھی ہے۔ اُن کے مخصوص ذہن نے سیاست کو دین میں مرکزی مقام دیدیا اور دین کو سیاسی طور پر غالب کرنا ان کو وہ نصب العین نظر آیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے سپرد کیا ہے۔ اس کا قدرتی نتیجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page