Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

دین کی سیاسی تعبیر

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہوا کہ دین کے تمام اجزا ، سیاست کے تابع ہو گئے اور سیاست وہ مرکزی تصور قرار پایا جس کی روشنی میں دین کے کسی جزو کو سمجھا جائے اور اس کی اہمیت متعین کی جائے۔ اس طرح اُن کے فکری خانے میں دین کی جو شکل بنی اُس میں ہر جزو پر سیاسی رنگ غالب آگیا اور ہر جزو اپنے واقعی مقام سے ہٹ گیا۔ یہ بات مولانا مودودی کے لٹریچر میں اس کثرت سے پھیلی ہوئی ہے کہ کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ میں یہاں بطور نمونہ چند اقتباسات نقل کرتا ہوں۔ حیات وکائنات کی تشریح جس طرح مسئلہ معاش کے غلبہ نے مارکس کے یہاں ایک ایسی تشریح کائنات کی صورت اختیار کی جس میں معاش ہی سب سے بڑی قوت تھی، اسی طرح یہاں بھی سیاسی طرز فکر کے نتیجہ میں زندگی اور کائنات کا ایسا تصور ابھرا جس میں سیاسی پہلو خصوصیت سے بہت زیادہ نمایاں تھا: ” انسان کی زندگی کا جو حصہ حیوانی وطبعی ہے، اس کو تو اللہ تعالیٰ نے حکم تکوینی کے ماتحت رکھا ہے اور اس حصہ میں انسان دوسری مخلوقات کی طرح بہرحال مسلم (مطیع) ہے۔ مگر جو حصہ انسانی ہے، یعنی جس میں انسان عقل اور تمیز استعمال کر کے خود اپنے ارادے سے کام کرتا ہے اُس میں اللہ نے اسے آزادی عطا کی ہے ...... آدمی کو آزاد چھوڑنے کا مدعا دراصل امتحان اور آزمائش ہے۔ جائز اور حق تو صرف یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اختیاری حصہ میں بھی اسی طرح اپنے خالق کا مطیع ہو جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page