حیات وکائنات کی تشریح
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح وہ اپنی زندگی کے غیر اختیاری حصے میں اس کا مطیع ہے کیونکہ حقیقت میں وہی ایک جائز فرماں روا ہے اور اسی کی اطاعت کائنات کے مجموعی نظام کے ساتھ صحیح مناسب رکھتی ہے۔ لیکن اللہ نے اس طریق پر چلنے کے لئے انسان کو مجبور نہیں کیا، بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا ہے: " انسان کی زندگی کے اختیاری حصہ میں اللہ کے جس قانون کی اطاعت مطلوب ہے، وہ اس کا قانون تکوینی نہیں۔ بلکہ اس کا وہ قانون شرعی ہے جو رسولوں کے واسطے سے آتا ہے اور اس قانون کا تعلق عقائد، اخلاق ، معاشرت ، تمدن اور سیاست وغیرہ سے ہے۔ محض تکوینی حیثیت سے اللہ کو خالق اور مدبر کائنات اور مالک ارض و سما مان لینا کافی نہیں، بلکہ سیاسی حیثیت سے اسی کو بادشاہ اور حاکم اور قانون ساز ماننا بھی ضروری ہے اور اسی کے بنائے ہوئے اصول اخلاق اور حدود و قانون کی پیروی لازم ہے۔ اگر صرف تکوینی حیثیت سے کوئی اللہ کو مانتا ہو اور لاشریک مانتا ہو؛ لیکن انسانی زندگی کے اختیاری حصہ میں خود اپنے مختار مطلق ہونے کا ادعا کرے یا زمین کے کسی حصہ پر اپنی حاکمیت کا مدعی ہو اور کہے کہ یہاں میں اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہوں گا حکومت چلاؤں گا (جیسا کہ نظامِ بادشاہی میں ہر بادشاہ نظام آمریت میں ہر ڈکٹیٹر نظام برہمنی و پاپائی میں ہر مذہبی پیشوا ، نظام جمہوری میں جمہوریت کا ہر شہری کہتا ہے) اور جیسا کہ انفرادی زندگی میں ہر اُس شخص کا نفس کہتا ہے جو خدا کی اطاعت کا قائل نہ ہو) تو دراصل وہ خدا کے مقابلے میں بغاوت کرتا ہے اور علیٰ ہذا القیاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader