دین کی سیاسی تعبیر
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
جو شخص اس شعبہ زندگی میں کسی دوسرے کی حاکمیت و آمرّیت تسلیم کرتا ہے وہ بھی بغاوت ہی کا ارتکاب کرتا ہے ، مومن کا کام اس بغاوت کو دنیا سے مٹانا اور خدا کی زمین پر خدا کے سوا ہر ایک کی خداوندی ختم کر دینا ہے ۔ مومن کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جس طرح خدا کا قانونِ تکوینی تمام کائنات میں نافذ ہے اسی طرح خدا کا قانونِ شرعی بھی عالمِ انسانی میں نافذ ہو۔ مومن کی تمام مساعی کا ہدفِ مقصود یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالے اور صرف خدا کا بندہ بنائے ۔ یہ کام فی الاصل تو نصیحت ، نمائش ، ترغیب اور تبلیغ ہی سے کرنے کا ہے ۔ لیکن جو لوگ ملکِ خدا کے ناجائز مالک بن بیٹھے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں وہ عموماً اپنی خداوندی سے محض نصیحتوں کی بنا پر دستبردار نہیں ہو جایا کرتے اور نہ وہ اس کو گوارا کرتے ہیں کہ عامہ الناس میں حقیقت کا علم پھیلے ، کیونکہ اس سے اُن کو خطرہ ہوتا ہے کہ اُن کی خداوندی خود بخود ختم ہو جائے گی ۔ اس لئے مومن کو مجبوراً جنگ کرنی پڑتی ہے تا کہ حکومتِ الہیہ کے قیام میں جو چیز سدِ راہ ہو اسے راستے سے ہٹا دے ۔ ( دستور جماعت اسلامی ۱۹ ) نصب العین کا تصور دین کی سیاسی تعبیر نے اپنے فطری نتیجے کے طور پر پرسنل مقصود کا سیاسی تصور پیدا کیا اور ایک ایسا نصب العین دیا جس سیاست و حکومت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader