Urdu book · دین کی سیاسی تعبیر

نصب العین کا تصور

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

" ہماری جدوجہد کا آخری مقصود انقلاب امامت ہے۔ یعنی دنیا میں ہم جس انتہائی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فساق و فجار کی امامت و قیادت ختم ہوکر امامت صالحہ کا نظام قائم ہو اور اسی سعی و جہد کو ہم دنیا و آخرت میں رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ چیز جسے ہم نے اپنا مقصد قرار دیا ہے ۔ افسوس ہے کہ آج اس کی اہمیت سے مسلم اور غیر مسلم سبھی غافل ہیں، مسلمان اس کو محض ایک سیاسی مقصد سمجھتے ہیں۔ اور اُن کو کچھ احساس نہیں ہے کہ دین میں اس کی اہمیت کیا ہے ...... انسانی معاملات کے بناؤ اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملات انسانی کی زمام کار کس کے ہاتھ میں ہے ... اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل ہی نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے ۔ اسی لئے دین میں امامت صالحہ کے قیام اور نظامِ حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے .... امامتِ صالحہ اور نظامِ حق کا قیام و بقا دین کا حقیقی مقصود ہے .... اسلام کے نقطہ نظر سے امامت صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے ... یہی میرے نزدیک کتابِ الہی کا مطالبہ ہے ، یہی انبیاء کی سنت ہے اور میں اپنی اس رائے سے ہٹ نہیں سکتا جب تک کوئی خدا کی کتاب اور رسول کی سنت ہی سے مجھ پر یہ ثابت نہ کر دے کہ دین کا یہ تقاضا نہیں ہے" تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page